لاہور: قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں سات مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران 281 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 21 غیر ملکی شہری اور 20 خواتین شامل ہیں۔ زیر تفتیش معاملات میں مالی دھوکا دہی، آن لائن ہراسانی اور لوگوں کو تعلقات کا جھانسہ دے کر پھانسنے کے الزامات شامل ہیں۔

ڈان کی 10 اکتوبر کو شائع خبر کے مطابق این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں۔ ان کے مطابق گرفتار افراد میں 260 پاکستانی اور 21 غیر ملکی شامل ہیں۔ غیر ملکیوں میں 12 چینی، پانچ فلپائنی، دو ویتنامی، ایک ملائیشین اور ایک نیپالی شہری بتایا گیا ہے۔

حکام نے ان افراد کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف آن لائن طریقوں سے دھوکا دہی اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کی شکایات کی چھان بین ہو رہی ہے۔ صرف گرفتاری یا کسی ادارے کے الزام کی بنیاد پر کسی فرد کو جرم کا مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ زیر تفتیش مقدمات میں شواہد کی جانچ، قانونی کارروائی اور ممکنہ عدالتی فیصلے الگ مراحل ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق ایجنسی موبائل والیٹس اور بینک کھاتوں کے ذریعے مبینہ جعلی لین دین کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی فراڈ سے متعلق پانچ مقدمات اور دس انکوائریوں میں ایک کروڑ 92 لاکھ 46 ہزار 240 روپے کی رقم بازیاب کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائیوں میں تحویل میں لیے گئے ڈیجیٹل آلات کے فرانزک معائنے کا عمل جاری ہے، تاکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر واقعات کے حقائق طے کیے جا سکیں۔

ایجنسی کے بیان کردہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقات میں الیکٹرانک آلات اور لین دین کا ریکارڈ اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم محض کسی موبائل یا کمپیوٹر کا قبضے میں لیا جانا اس کے مالک کے خلاف جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں ہے۔ فرانزک شواہد اور متعلقہ قانونی طریقہ کار ہی ان معاملات میں حتمی حقائق واضح کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

عاطف امیر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کو منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں اور نئے نوعیت کے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کی عملی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔ شہریوں کی شکایات سننے کے لیے لاہور زون میں ہفتے میں تین دن کھلی کچہری کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران کرکٹر محمد رضوان سے متعلق سوال پر عہدیدار نے کہا کہ ان سے رابطے کا مقصد ان کا موبائل فون فرانزک معائنے کے لیے حاصل کرنا تھا۔ ان کے مطابق رضوان نے فون فراہم کر دیا ہے اور متعلقہ حقائق جانچ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔ اس بیان کی بنیاد پر کسی فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے کا تاثر دینا مناسب نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف مہم جاری رہے گی۔ اب ان کارروائیوں کے بعد فرداً فرداً الزامات، شواہد اور قانونی نتائج کی جانچ اہم ہوگی تاکہ سائبر جرائم کی روک تھام کے ساتھ قانونی حقوق بھی برقرار رہیں۔