اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے سامان کی جانچ کرنے والے اسکینرز جلد نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسافروں کی غیر ضروری تلاشی اور سوال جواب کم کرنا، کسٹمز کی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر بنانا اور ممنوعہ یا ٹیکس کے دائرے میں آنے والے سامان کی نشاندہی بہتر بنانا ہے۔ وزیراعظم نے کسٹمز انفورسمنٹ سے متعلق اجلاس میں متعلقہ حکام کو جدید نظام متعارف کرانے اور مسافروں کے ساتھ باوقار برتاؤ یقینی بنانے کی تاکید کی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایسے اسمارٹ اسکینرز نصب کرنے پر اتفاق کیا ہے جو سامان کی منتقلی کے خودکار نظام کے ساتھ کام کریں گے۔ منصوبے کے تحت سامان کو طیارے سے اتارنے کے بعد معمول کی دستی تلاشی کے بجائے ٹیکنالوجی کی مدد سے مشتبہ بیگز کی نشاندہی کی جائے گی۔ کسٹمز اہلکاروں کی توجہ انہی بیگز پر مرکوز ہوگی جنہیں نظام ممکنہ ٹیکس واجب الادا یا مشتبہ اشیا کے حامل سامان کے طور پر نشان زد کرے گا۔ یہ منصوبہ ابھی تنصیب کی ہدایات اور تیاری کے مرحلے میں ہے، اسے تمام ہوائی اڈوں پر مکمل طور پر فعال نظام قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پرانے طریقوں کی وجہ سے مسافروں کو بلا ضرورت پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایئرپورٹ عملے کی تربیت بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے اور خدمت کی فراہمی میں شائستگی اور احترام کو بنیادی شرط بنانے کی ہدایت کی۔ منصوبے کے تحت آمد کے ہال میں کسٹمز اہلکاروں کی موجودگی محدود کرنے اور مخصوص جانچ کے لیے ریڈ چینل استعمال کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔

اجلاس میں کسٹمز کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سسٹم کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ دریائے سندھ کے بڑے گزرگاہی مقامات کے قریب 26 چیک پوسٹوں کا نظام قائم کیا جا رہا ہے یا موجودہ سہولتوں کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت 105 مقدمات میں تقریباً 27 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا ضبط کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ان میں ڈیزل، کپڑا، ٹائر، سگریٹ اور دیگر مصنوعات شامل تھیں۔ یہ اعداد حکومتی بریفنگ سے منسوب ہیں۔

حکام نے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حمل اور اس سے ممکنہ محصولات کے نقصان کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ حکومت نے تیل کی ترسیل کی نگرانی کے لیے الیکٹرانک بلٹی نظام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام کو سرکاری آمدنی کے تحفظ سے جوڑا۔ نئے اسکینرز کی حقیقی افادیت کا اندازہ تنصیب، عملی کارکردگی، مسافروں کے تجربے اور کسٹمز کی جانچ کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔