ہانگ کانگ: چین کی نمایاں مصنوعی ذہانت کمپنی مون شاٹ کے اعلیٰ عہدیدار ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹ میں ممکنہ لسٹنگ سے پہلے ایک سابق کاروباری شراکت دار کے ساتھ قانونی تنازع طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے 11 اکتوبر 2026 کو معاملے سے آگاہ افراد کے حوالے سے بتایا کہ بات چیت کا تعلق کمپنی کے قیام اور سابق ادارے ریکرنٹ ڈاٹ اے آئی کے ڈیٹا اور کاروباری حقوق سے متعلق دعوؤں سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق مون شاٹ کے چیف ایگزیکٹو یانگ ژیلن اور چیف ٹیکنالوجی افسر ژانگ یوتاؤ اس سے پہلے ریکرنٹ ڈاٹ اے آئی کے قیام میں شریک تھے۔ ریکرنٹ اور اس کے بعض سرمایہ کاروں کا الزام ہے کہ 2023 میں مون شاٹ قائم کیے جانے کے دوران اہم ڈیٹا کو مناسب اجازت کے بغیر منتقل کیا گیا، سرمایہ کاروں کو گمراہ کن معلومات دی گئیں اور کچھ ذاتی فوائد حاصل کیے گئے۔ ان دعوؤں کی قانونی نوعیت الزامات کی ہے، ثابت شدہ حقائق کی نہیں۔
روئٹرز کے مطابق مارچ 2024 کے ایک قانونی خط میں مون شاٹ کی صدر ژانگ یوتونگ سے متعلق بھی مالی فائدے کے الزامات اٹھائے گئے تھے۔ یہ تنازع 2024 سے ہانگ کانگ میں ثالثی کے عمل کا حصہ رہا ہے۔ ایسے نجی تجارتی تنازعات میں فریقین کے دعوے، دستیاب دستاویزات اور ان کا قانونی جواب اہم ہوتے ہیں، اس لیے محض مقدمہ درج ہونے کو کسی شخص یا ادارے کے قصور کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
مون شاٹ اور اس کے عہدیداروں نے الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں شامل ذرائع کے مطابق تنازع طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی حتمی سمجھوتے، معاوضے کی منظوری یا ثالثی کے قطعی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یہی فرق اس خبر کا بنیادی قانونی پہلو ہے۔
مون شاٹ چین میں بڑے زبان کے ماڈلز بنانے والی ان کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی حاصل رہی ہے۔ اس کی کیمی نامی اے آئی مصنوعات نے کمپنی کو عالمی سطح پر شناخت دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کی تخمینی مالیت تقریباً 30 ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور اس کے سرمایہ کاروں میں علی بابا، ٹین سینٹ اور میتھوان جیسے نام شامل ہیں۔ تاہم کمپنی کی نجی تخمینی مالیت کسی حتمی آئی پی او قیمت کے برابر نہیں۔
ریکـرنٹ سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے حصص سے جڑے معاوضے کے مطالبات اہم مالی حجم کے ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف مون شاٹ کی ممکنہ لسٹنگ کے لیے سرمایہ کاروں کے سامنے قانونی تنازعات اور انتظامی امور کی درست معلومات پیش کرنا اہم ہوگا۔ اس تنازع کا کسی آنے والی لسٹنگ پر عملی اثر کس حد تک ہوگا، یہ فی الحال واضح نہیں ہے۔
رپورٹ میں مذاکرات اور فریقین کے الزامات کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ کاروباری سمجھوتے کی بات چیت جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فریق نے الزام تسلیم کر لیا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا تعلق ممکنہ تصفیے، ثالثی اور کمپنی کی سرمایہ منڈی میں داخلے کی تیاریوں سے ہوگا۔

