برسلز: یورپی یونین کی ٹیکنالوجی امور کی سربراہ ہینا ورکنن نے کہا ہے کہ خطے کے موجودہ مصنوعی ذہانت قوانین انتہائی طاقتور اے آئی نظاموں اور غیر متوقع انداز میں کام کرنے والے خودمختار ایجنٹس سے پیدا ہونے والے حفاظتی خدشات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 9 اکتوبر 2026 کو خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کو جدید ٹیکنالوجی کی نگرانی کا ایک جامع قانونی فریم ورک قرار دیا۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ترقی کرتے ماڈلز کی صلاحیتوں اور ان کے ممکنہ غلط استعمال پر بحث بڑھ رہی ہے۔ بعض واقعات کے بعد یہ خدشات سامنے آئے کہ زیادہ خودمختار نظام انسان کی توقعات یا مقرر کردہ حدود سے ہٹ کر بھی کام کر سکتے ہیں۔ تاہم ان خدشات کا ذکر کسی ایک نئی خلاف ورزی یا کسی کمپنی کے خلاف حتمی قانونی فیصلہ ہونے کے طور پر نہیں کیا گیا۔
ہینا ورکنن کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے پاس پہلے سے ایک ایسا قانون موجود ہے جو مختلف استعمالات کو خطرے کی نوعیت کے مطابق دیکھتا ہے اور ماڈلز کی تیاری سے لے کر ان کے استعمال تک کئی مراحل میں ذمہ داریاں متعین کرتا ہے۔ ان کے مطابق بہت زیادہ صلاحیت رکھنے والے ماڈلز کی حفاظت اور سکیورٹی اس وقت بین الاقوامی سطح پر اہم موضوع ہے، لیکن یورپ کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے مناسب قانونی آلات موجود ہیں۔
یورپی یونین نے تقریباً دو برس پہلے مصنوعی ذہانت سے متعلق قانون منظور کیا تھا۔ اس فریم ورک کا مرکزی تصور یہ ہے کہ ہر اے آئی استعمال کے ساتھ ایک ہی نوعیت کا خطرہ وابستہ نہیں ہوتا۔ ایسے نظام جو اہم فیصلوں، بنیادی حقوق یا سلامتی پر اثر انداز ہو سکتے ہوں، ان کے لیے زیادہ سخت ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں۔ قانون کے تحت مخصوص کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی کے خطرات جانچنے اور متعلقہ حکام کو معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
یورپی ٹیکنالوجی سربراہ نے بتایا کہ ریگولیٹرز کمپنیوں کو ماڈلز کی جانچ، اس کے لیے درکار وقت اور خطرات کو سمجھنے کے طریقوں کے بارے میں رہنمائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 ماہرین پر مشتمل سائنسی پینل کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس عمل میں تکنیکی معلومات اور قانونی نگرانی کو ایک دوسرے سے مربوط رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یورپی کمیشن متعدد کمپنیوں سے حفاظتی اقدامات اور قانونی تقاضوں کے بارے میں معلومات مانگ رہا ہے۔ تاہم معلومات کی درخواست یا ابتدائی جانچ کو کسی باقاعدہ خلاف ورزی کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے متعلقہ شواہد اور قانونی طریقہ کار کا الگ مرحلہ ہوگا۔
ورکنن کے بیان سے یورپی یونین کا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ نئی مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کے خطرات سامنے آنے پر بھی موجودہ اے آئی ایکٹ ایک بنیادی قانونی ذریعہ رہ سکتا ہے۔ اس مؤقف کے عملی نتائج ماڈلز کی جانچ، کمپنیوں کے تعاون اور ریگولیٹرز کے بعد کے فیصلوں کے ذریعے واضح ہوں گے۔

