اسلام آباد میں جمعرات 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کرنے والی دو الگ قراردادیں منظور کر لیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ پیش رفت اس فیصلے کے بعد سامنے آئی جس کے تحت وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ہنگامی اقدامات نافذ کیے تھے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلانات اور متعلقہ قراردادیں پیش کیں۔ بحث کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے قراردادیں ایوان کے سامنے رکھیں اور ان کی منظوری کا اعلان ہوا۔ اجلاس کے دوران قواعد کی بعض شقیں معطل کرنے کی تحریک بھی پیش کی گئی، جسے ڈان کے مطابق 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ یہ ووٹنگ قواعد سے متعلق تحریک کی تھی، اسے دونوں قراردادوں کی الگ الگ ووٹ گنتی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر وفاق اور سابق صوبائی انتظامیہ کے درمیان اختلافات نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایوان میں کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور آخری مرحلے تک ایمرجنسی سے بچنا چاہتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی وفد نے صوبے کے بعض اضلاع میں مشترکہ اقدامات کی تجویز بھی دی تھی۔ یہ مذاکرات کے بارے میں حکومتی بیان ہے، جس کی اپوزیشن نے مختلف تشریح پیش کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وفاق کی جانب سے اپنی جماعت کے بارے میں لگائے جانے والے الزامات پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور پارٹی کو دہشت گردوں کی حمایت سے منسلک کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ سیاسی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے بھی حکومتی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مذاکرات پر زور دیا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے حکومتی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ آئینی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی ضرورت کے حق میں مطلوبہ شواہد پارلیمان کے سامنے کیوں نہیں رکھے گئے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے مذاکرات کی سابقہ کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود آئینی دائرے میں رہنا ضروری ہے۔
آئین کی دفعہ 232 ایمرجنسی اور دفعہ 234 گورنر راج کے متعلق طریقہ کار بیان کرتی ہیں۔ ڈان کے مطابق اجلاس میں دونوں دفعات کا حوالہ دیا گیا اور منظوری کے لیے درکار پارلیمانی کارروائی پر بحث ہوئی۔ اس فیصلے کے بعد صوبے میں انتظامی اختیارات، سیاسی نمائندگی اور وفاقی و صوبائی تعلقات کے بارے میں سوالات بدستور اہم ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے متضاد مؤقف کو الگ رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ مشترکہ اجلاس نے دونوں اقدامات کی توثیق کر دی ہے؛ ان کے سیاسی اور قانونی اثرات پر اختلاف جاری ہے۔

