خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک غیر معمولی فوجی اجلاس منعقد کیا ہے جس کا مقصد مشترکہ دفاعی رابطہ کاری اور عملی تیاری کو مضبوط بنانا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اجلاس جی سی سی آرمڈ فورسز آپریشنز اینڈ ٹریننگ کمیٹی کے تحت ہوا اور متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بھی اس کی تصدیق کی۔
اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب سعودی عرب اور خلیجی خطے کو یمن سے ڈرون اور دیگر حملوں کے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی قیادت والے اتحاد نے مدینہ اور مشرقی صوبے کی سمت آنے والے ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کی اطلاع دی تھی۔ ان واقعات نے خلیجی ریاستوں کے فضائی دفاع، ابتدائی انتباہی نظام اور مشترکہ آپریشنل رابطے کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
غیر معمولی اجلاس میں فوجی تیاری، تربیتی رابطہ کاری اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے طریقہ کار پر توجہ دی گئی۔ دستیاب رپورٹ میں کسی نئے مشترکہ فوجی آپریشن یا مخصوص تعیناتی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کو فوری جنگی کارروائی کے فیصلے کے بجائے علاقائی خطرات کے تناظر میں دفاعی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی کوشش سمجھنا زیادہ درست ہے۔
جی سی سی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان شامل ہیں۔ ان ممالک نے ماضی میں مشترکہ دفاعی مشقیں اور فوجی تعاون کے مختلف انتظامات کیے ہیں، لیکن ہر ملک کی خارجہ اور دفاعی ترجیحات میں فرق بھی موجود ہے۔ موجودہ کشیدگی نے مشترکہ خطرات کے مقابلے کے لیے رابطے کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔
اجلاس کے نتائج کے بارے میں تفصیلی عملی فیصلے فوری طور پر جاری نہیں کیے گئے۔ آئندہ کسی مشترکہ دفاعی اقدام، اضافی فورس تعیناتی یا نئے آپریشنل طریقہ کار کی تصدیق متعلقہ حکومتوں اور جی سی سی کے باضابطہ بیانات سے ہو گی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ رکن ممالک نے غیر معمولی سطح پر فوجی رابطہ اور تیاری کا جائزہ لیا ہے۔
