سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع ابیئی خطے میں ایک مارکیٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں مقامی حکام کے مطابق 53 افراد ہلاک اور کم از کم 27 زخمی ہو گئے ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ، جسے ڈان نے 21 اکتوبر 2026 کو شائع کیا، کے مطابق ابیئی کے حکام نے کہا کہ حملہ پیر کو امیت مارکیٹ پر کیا گیا اور اس کی ذمہ داری سوڈانی فوج پر عائد کی۔
مقامی انتظامیہ نے الزام لگایا کہ حملے میں متعدد بارودی مواد استعمال کیے گئے اور متاثرین میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجر، نگاک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے لوگ اور سوڈان کی وسیع جنگ سے پناہ لینے والے مہاجرین شامل تھے۔ یہ تفصیلات مقامی حکام کے بیان پر مبنی ہیں اور حملے کی ذمہ داری سے متعلق الزام کو اسی نسبت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ نے ابیئی میں حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ امیت مارکیٹ میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی یا لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ کے بیان میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کو تشویشناک رجحان قرار دیا گیا۔ مقامی حکام اور اقوام متحدہ کے اعداد میں فرق موجود ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد کو متعلقہ ذرائع کی نسبت سے بیان کرنا ضروری ہے۔
ابیئی ایک حساس علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان 2011 میں سوڈان سے الگ ہوا تھا، مگر ابیئی کی حتمی حیثیت طویل عرصے سے تنازع کا شکار ہے۔ خطے کے کچھ حصوں میں مختلف مسلح اور سیاسی قوتوں کا اثر بھی موجود ہے، جس سے شہری آبادی کی سلامتی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے حملے کے بعد سوڈانی سفیر کو طلب کیا اور سوڈانی فوج پر مارکیٹ کے متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ یہ واقعہ سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی جنگ کے وسیع تر پس منظر میں پیش آیا ہے۔ ذمہ داری اور مکمل جانی نقصان سے متعلق حتمی تصویر آزاد تحقیقات اور مزید تصدیق کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
