گلگت: گلگت بلتستان حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 218.845 ارب روپے کا سالانہ بجٹ گلگت بلتستان اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ یہ مکمل بجٹ مالی سال شروع ہونے کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آیا، کیونکہ حکومت نے جولائی میں ابتدائی تین ماہ کے لیے 20.478 ارب روپے کا عبوری بجٹ پیش کیا تھا۔

سینئر وزیر اور وزیر خزانہ محمد علی اختر نے 15 ستمبر کو بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی بجٹ میں 43.97 ارب روپے ترقیاتی اور 149.87 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ حکومت نے ٹیکس محصولات کا ہدف 16.98 ارب روپے مقرر کیا ہے، جبکہ بجٹ خسارہ 52.65 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے درکار فنڈز کے حصول کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

بجٹ دستاویزات اور اسمبلی میں دی گئی تفصیلات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 22 ارب روپے سے بڑھا کر 23 ارب روپے کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختص رقم 15 ارب روپے سے بڑھا کر 20.973 ارب روپے کی گئی ہے۔ اس میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت 4 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

گندم سے متعلق مالی معاونت بھی بجٹ کا اہم حصہ ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق گندم سبسڈی کے لیے مختص رقم 15 ارب روپے سے بڑھا کر 22 ارب روپے کی گئی، جبکہ گندم کی فروخت سے 3 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ حکومت نے وفاق سے تقریباً 153.30 ارب روپے کے خصوصی استحکامی پیکیج کی درخواست بھی کی ہے، جسے مقامی حکومتوں، امن و امان، تعلیم، صحت، سیاحت، سیلابی نقصانات، بلدیاتی خدمات، خوراک، ای گورننس، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور مختلف واجبات سمیت متعدد شعبوں سے جوڑا گیا ہے۔

بجٹ میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 44 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے سماجی تحفظ کے لیے پہلی بار ایک ارب روپے مختص کرنے اور سماجی شعبے کے لیے 4 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ ترقیاتی فنڈز کا ایک فیصد موسمیاتی مقاصد کے لیے مشترکہ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی بجٹ اقدامات میں شامل ہے۔

اخراجات محدود کرنے کے لیے تمام محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے سرکاری محکموں کے لیے ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی پرانی گاڑیاں نیلام کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ صحت، تعلیم، زراعت، نوجوانوں کے قرضوں، بلدیاتی انتخابات، پانی و بجلی اور سیاحت کے لیے بھی الگ رقوم مختص کی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق 10 اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5.034 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔