اسلام آباد: وفاقی حکومت نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے ملک گیر اجرا کے انتظامات مکمل کرتے ہوئے پورے ملک میں رجسٹریشن کھول دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں پائلٹ کے بعد نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی آن فیول سبسڈی نے ملک بھر میں اسکیم کے آغاز کے انتظامات کو حتمی شکل دی۔ رجسٹرڈ صارفین کے لیے فیول ٹوکن کے استعمال کا مرحلہ بدھ اور جمعرات، یعنی 16 اور 17 ستمبر 2026 کی درمیانی شب سے شروع ہونا طے ہے۔
اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیہ گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی اہل گاڑیوں کو ہدفی ریلیف دیا جائے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 ستمبر کے سرکاری اعلامیے کے مطابق دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے صارفین کو 500 روپے فی ہفتہ ریلیف ملے گا، جو پانچ لیٹر پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے بنتا ہے۔ 800 سی سی تک کی کاروں کے لیے 1,000 روپے فی دس دن ریلیف رکھا گیا ہے، جس کی بنیاد ماہانہ 30 لیٹر تک 100 روپے فی لیٹر ہے۔ یہ سہولت غیر تجارتی صارفین کے لیے ہے اور ایک صارف یا مالک کے لیے ایک گاڑی تک محدود رکھی گئی ہے۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو Fuel Pass System کے ڈیجیٹل انتظام اور ریلیف کی شفاف فراہمی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ APP کے مطابق ملک بھر میں رجسٹریشن SMS کے ذریعے 9771 پر کھولی گئی ہے۔ رجسٹریشن کے بعد اہل صارف فیول ٹوکن حاصل کرنے کے لیے “TOK” اسی نمبر 9771 پر بھیج سکتا ہے اور ٹوکن کو پیٹرول پمپ پر تصدیق کے بعد استعمال کیا جائے گا۔ حکومت نے یہ نظام SMS پر رکھا ہے تاکہ اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ نہ رکھنے والے افراد بھی رجسٹریشن کے عمل تک رسائی حاصل کر سکیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ملک گیر rollout کا جائزہ لیا گیا۔ APP کے مطابق انہوں نے ہدایت کی کہ فیول اسٹیشنز کی ادائیگیاں اسٹیٹ بینک کے ذریعے 24 گھنٹے کے اندر نمٹائی جائیں اور صوبائی انتظامیہ ضلعی سطح پر آگاہی اور سہولت کاری مکمل کرے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں اسکیم فعال کی گئی، جہاں اہل شہریوں کو مخصوص پیٹرول پمپس پر رعایتی ایندھن فراہم کیا گیا اور وزارت آئی ٹی نے رجسٹریشن و ٹوکن کے عملی عمل کا جائزہ لیا۔
یہ عملی اجرا 14 ستمبر کی ECC منظوری کے بعد اگلا مرحلہ ہے۔ ECC نے مالی و انتظامی فریم ورک منظور کیا تھا، جبکہ 16 ستمبر کی پیش رفت میں رجسٹریشن کو پورے ملک کے لیے کھولنا اور ٹوکن redemption شروع کرنے کی تاریخ طے کرنا شامل ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے اثر سے کم آمدنی والے اہل صارفین کو ہدفی ریلیف دینا ہے اور اس کی لاگت وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
