وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے لیے ایسا مالی فریم ورک تیار کرنے پر غور کر رہی ہے جو قومی مالیاتی کمیشن، یعنی این ایف سی، کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور خطے کو زیادہ شفاف اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کر سکے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی اور قانونی درجے، انتظامی ڈھانچے اور مالی حقوق سے متعلق مشاورت جاری ہے اور کسی حتمی فیصلے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

گلگت میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی اور علاقائی حکام نے ماضی کی سفارشات، آئینی آپشنز اور موجودہ نظام کے اندر قابلِ عمل اصلاحات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں دفاع، خارجہ امور، کشمیر امور و گلگت بلتستان سمیت مختلف وزارتوں اور گلگت بلتستان کونسل کے نمائندے شریک تھے۔ وزیر قانون نے ورکنگ گروپ کو عملی تجاویز اور عبوری رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ مرکزی کمیٹی کے سامنے قابلِ عمل سفارشات پیش کی جا سکیں۔

گلگت بلتستان حکومت طویل عرصے سے این ایف سی ایوارڈ میں باضابطہ حصہ مانگتی رہی ہے، تاہم وفاقی فنانس ڈویژن کے مطابق موجودہ آئینی پوزیشن میں خطے کو براہ راست این ایف سی کا رکن بنانے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہو گی۔ اسی بنا پر ایک عبوری مالی انتظام زیر غور ہے جو آزاد جموں و کشمیر کے وفاقی مالی ماڈل سے مشابہ ہو سکتا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی نے ایسے مجوزہ انتظام کی حمایت بھی کی ہے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کے مطابق خطے کی تخمینی مالی ضرورت تقریباً 320 ارب روپے ہے جبکہ موجودہ وسائل میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ ان کے بقول مجوزہ بندوبست کے تحت وفاق سے تقریباً 250 ارب روپے کی فراہمی کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاہم اس کے حتمی خدوخال وفاقی منظوری اور متعلقہ قانونی تقاضوں سے مشروط ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی گلگت بلتستان کے مالی اور ترقیاتی معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی کی توجہ طویل مدتی مالی پائیداری، پن بجلی، بجلی کے شعبے کی اصلاحات، موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل رابطہ، عوامی خدمات اور ترقیاتی ترجیحات پر مرکوز ہے۔ حکام کے مطابق مقصد ایسا وسائل کی تقسیم کا نظام وضع کرنا ہے جو این ایف سی کے بنیادی اصولوں سے رہنمائی لے اور سالانہ غیر یقینی گرانٹس پر انحصار کم کرے۔

وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کے آئینی اور قانونی حل پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو حتمی آئینی تبدیلی نہیں بلکہ مشاورتی اور عبوری مالی راستہ سمجھا جا رہا ہے۔