کراچی: سندھ اسمبلی نے پاکستان رینجرز کی صوبے میں تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ ایوان میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق رینجرز 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک سندھ میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
قرارداد میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کے تناظر میں رینجرز کی موجودگی کو جاری رکھنے کی حمایت کی گئی۔ صوبائی حکومت اور حکومتی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ رینجرز اور پولیس کے تعاون سے ہدفی جرائم اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف اقدامات میں مدد ملی ہے۔
رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کا مطلب یہ ہے کہ نیم فوجی فورس صوبائی پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ معاون کردار میں کام جاری رکھے گی۔ اس کی عملی ذمہ داریاں اور اختیارات متعلقہ قوانین، وفاقی و صوبائی منظوریوں اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے تحت طے ہوتے ہیں۔
سندھ، بالخصوص کراچی، میں رینجرز کئی برسوں سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ تعینات رہے ہیں۔ ماضی میں ان کی تعیناتی اور خصوصی اختیارات کی مدت میں توسیع باقاعدہ سرکاری منظوری کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ تازہ قرارداد اسی انتظامی تسلسل کا حصہ ہے اور اس میں ایک واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق امن و امان میں بہتری کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تاہم جرائم میں کمی یا اضافے سے متعلق مختلف دعووں کا جائزہ سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تجزیے کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ اسمبلی کی موجودہ منظوری کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ رینجرز کی سندھ میں معاون تعیناتی جولائی 2027 تک جاری رکھنے کے لیے سیاسی و قانونی عمل کو آگے بڑھایا گیا ہے۔




