عالمی فضائی نگرانی کے تازہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ رواں سال یکم جنوری سے 15 ستمبر کے دوران دنیا کی تقریباً 34 فیصد آبادی ایسی فضا میں رہی جہاں اوزون کی سطح کو انتہائی خراب قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں پاکستان کے شہر لاہور کو بھی ان بڑے شہری مراکز میں شامل کیا گیا ہے جہاں زمینی سطح کی اوزون کی مقدار بہت زیادہ ریکارڈ ہوئی۔
جیو نیوز پر شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق کوپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس سیٹلائٹ ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے فضائی آلودگی اور جنگلاتی آگ کی نگرانی کرتی ہے۔ جائزے میں عالمی ادارۂ صحت کی اس رہنمائی کو حوالہ بنایا گیا ہے جس کے مطابق آٹھ گھنٹے کی اوسط پر فی مکعب میٹر 100 مائیکروگرام اوزون زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 34 فیصد عالمی آبادی انتہائی خراب، مزید 17 فیصد بہت خراب اوزون آلودگی کی زد میں رہی، جبکہ صرف 5 فیصد آبادی کو اوزون کے اعتبار سے اچھی فضا میسر آئی۔ ایشیا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا جہاں 53 فیصد آبادی نے انتہائی خراب اور مزید 22 فیصد نے بہت خراب اوزون سطح کا سامنا کیا۔ رپورٹ نے صنعتی سرگرمی، معاشی ترقی، ٹرانسپورٹ، جنگلاتی آگ اور زرعی باقیات جلانے کو خطے میں آلودگی کے اہم عوامل میں شمار کیا۔
لاہور کے ساتھ نئی دہلی، ڈھاکا اور چین کے بڑے شہر چونگ چنگ کو بھی انتہائی خراب اوزون والے شہروں میں شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں شمالی امریکا اور یورپ میں بھی وسیع آبادی کے خراب یا بہت خراب فضائی معیار سے متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے ایک عہدیدار کے مطابق اوزون آلودگی یورپ میں ہر سال ہزاروں قبل از وقت اموات سے منسلک ہے۔
زمینی سطح کی اوزون براہ راست فضا میں خارج نہیں ہوتی بلکہ سورج کی روشنی میں مختلف آلودہ گیسوں کے کیمیائی تعامل سے بنتی ہے، اس لیے اس کا مسئلہ صرف دھویں کے ایک ذریعے تک محدود نہیں رہتا۔ لاہور کے لیے یہ نتیجہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ شہر پہلے ہی موسمی اسموگ اور ذراتی آلودگی کے مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ رپورٹ کسی ایک دن کے مقامی ایئر کوالٹی انڈیکس کی پیمائش نہیں بلکہ طویل مدت کی اوزون نمائش کا عالمی جائزہ ہے، اس لیے اسے روزانہ کے AQI سے الگ سمجھا جانا چاہیے۔

