کراچی: سندھ حکومت نے بارشوں کی شدید کمی اور زرعی نقصان کی سرکاری رپورٹس کے بعد تھرپارکر کو قحط سے متاثرہ ضلع قرار دیتے ہوئے فوری امدادی اقدامات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ آبادی، مویشیوں اور روزگار سے محروم ہونے والے خاندانوں کی ضروریات کا جائزہ لے کر ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت کی توسیعی شاخ نے ضلع میں فصلوں کے نقصان کا تخمینہ تقریباً 90 فیصد لگایا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کی فیلڈ رپورٹس میں بھی بتایا گیا کہ کئی علاقوں میں صرف 10 سے 15 فیصد فصلیں بچ سکی ہیں۔ تھرپارکر کی بڑی آبادی بارانی زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتی ہے، اس لیے بارشوں میں کمی کا اثر خوراک، چارے، پانی اور مقامی آمدن پر بیک وقت پڑتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ضلع کو آفت سے متاثرہ قرار دینے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد صوبائی اداروں کو ریلیف اقدامات کے لیے انتظامی بنیاد فراہم کرنا اور مختلف محکموں کے درمیان امدادی سرگرمیوں کو مربوط کرنا ہے۔ مقامی حکام سے کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کی نشاندہی کے لیے زمینی معلومات کو اپ ڈیٹ رکھا جائے تاکہ امداد ضرورت کے مطابق تقسیم ہو سکے۔

تھرپارکر میں خشک سالی کا خطرہ عمومی طور پر مون سون کی مقدار اور اس کی جغرافیائی تقسیم سے جڑا رہتا ہے۔ بارانی فصلیں ناکام ہونے کی صورت میں دیہی گھرانوں کو نہ صرف خوراک کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کی دستیابی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سرکاری ریلیف میں خوراک اور پانی کے ساتھ جانوروں کی ضروریات اور صحت عامہ کے انتظامات بھی اہم ہوتے ہیں۔

حکومت سندھ کے فیصلے کے بعد اگلا مرحلہ امدادی اقدامات کے عملی نفاذ اور نقصان کے مسلسل جائزے کا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں فصلوں کے نقصان کے اعداد سرکاری فیلڈ جائزوں سے منسوب ہیں؛ انہیں آزادانہ حتمی تخمینے کے بجائے متعلقہ صوبائی اداروں کی موجودہ assessment کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔