کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تھرپارکر میں ناکافی اور غیر مساوی بارشوں کے باعث شدید زرعی نقصان کا جائزہ لینے کے بعد ضلع کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے دیا ہے اور متعلقہ محکموں کو فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے پینے کے پانی، ضروری اشیا، مویشیوں کے چارے اور متاثرہ آبادی کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دینے کا کہا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ تھرپارکر کے تمام سات تعلقوں میں خشک سالی جیسی صورت حال موجود ہے۔ محکمہ زراعت توسیع کے تخمینے کے مطابق تقریباً 90 فیصد فصلوں کو نقصان پہنچا یا وہ پیداوار دینے کے قابل نہیں رہیں، جبکہ فیلڈ رپورٹس میں بتایا گیا کہ صرف 10 سے 15 فیصد فصلیں بچ سکی ہیں۔ یہ اعداد سرکاری بریفنگ اور فیلڈ جائزوں پر مبنی ہیں اور فصلوں کے حتمی مالی نقصان کا الگ تخمینہ بعد میں سامنے آ سکتا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مون سون کے دوران ضلع کے مختلف تعلقوں میں مجموعی بارش 181 سے 273 ملی میٹر کے درمیان ریکارڈ ہوئی، لیکن بارش کی تقسیم یکساں نہیں رہی۔ خاص طور پر ستمبر میں بارش بہت کم رہی، جس کے باعث فصلیں اور قدرتی گھاس مکمل نشوونما سے پہلے خشک ہو گئیں۔ اس صورت حال نے زراعت کے ساتھ مویشی پالنے والے خاندانوں کی آمدن اور خوراک کے ذرائع کو بھی متاثر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ غیر فعال ریورس اوسموسس پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر مرمت کرکے فعال کیا جائے اور موجودہ آبی ذرائع میں خرابیوں کی نشاندہی کرکے پانی کی فراہمی بحال رکھی جائے۔ انہوں نے نوکوٹ سے مٹھی تک مخصوص واٹر سپلائی لائن بچھانے کی فزیبلٹی کا بھی فوری جائزہ لینے کا کہا تاکہ مٹھی کے لیے زیادہ پائیدار پانی کا انتظام ممکن بنایا جا سکے۔

حکومت نے چارے کی کمی دور کرنے اور مویشیوں کو خشک سالی کے اثرات سے بچانے کے لیے بھی فوری انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ تھرپارکر میں مویشی مقامی معیشت اور گھریلو آمدن کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے چارے اور پانی کی قلت کا اثر صرف جانوروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ متاثرہ خاندانوں کے معاشی تحفظ سے بھی براہ راست جڑا ہوتا ہے۔

صوبائی انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں باہمی رابطہ یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ موجودہ اعلان خشک سالی کی سرکاری شناخت اور فوری ریلیف کے آغاز سے متعلق ہے؛ امداد کی مکمل مالیت، مستفید ہونے والے خاندانوں کی حتمی تعداد اور طویل مدتی بحالی کے اخراجات کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری جائزوں کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔