اقوام متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 ترکی کے شہر انطالیہ میں شروع ہوگئی ہے، جہاں دنیا بھر کے حکومتی نمائندے، مذاکرات کار اور موسمیاتی ماہرین گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اجلاس میں ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت، صاف توانائی کی منتقلی اور پیرس معاہدے کے تحت قومی اہداف پر عملدرآمد اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
کوپ مذاکرات ہر سال اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کے تحت منعقد ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود رکھنے، اخراج کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو موافقت اور نقصانات سے نمٹنے کے لیے وسائل فراہم کرنے پر بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
انطالیہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب دنیا کے کئی حصوں میں شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور دیگر موسمیاتی آفات کے اثرات بڑھنے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس تناظر میں ممالک پر اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں کو زیادہ مؤثر بنانے کا دباؤ برقرار ہے۔
موسمیاتی مالیات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان مذاکرات کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کم آمدنی والے اور موسمیاتی خطرات سے زیادہ متاثر ممالک کا مؤقف ہے کہ اخراج میں تاریخی طور پر زیادہ حصہ رکھنے والی معیشتوں کو صاف توانائی، موافقت اور آفات کے نقصانات کے لیے زیادہ مالی وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔ دوسری جانب فنڈنگ کے حجم، ذرائع اور تقسیم کے طریقہ کار پر اختلافات اکثر حتمی معاہدوں کو مشکل بناتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ مذاکرات خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ملک نے حالیہ برسوں میں بڑے سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی خطرات کا سامنا کیا ہے، جبکہ عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ نسبتاً محدود ہے۔ اس لیے موسمیاتی مالیات، موافقت اور نقصان و تلافی کے انتظامات اسلام آباد کی بین الاقوامی موسمیاتی سفارت کاری کے اہم نکات رہے ہیں۔
کوپ 31 کے آغاز کا مطلب کسی حتمی معاہدے کا طے پا جانا نہیں ہے۔ مختلف تجاویز پر مذاکرات اجلاس کے دوران جاری رہیں گے اور کسی بھی نئے مالی، اخراج یا توانائی سے متعلق وعدے کی اہمیت اس کے حتمی متن، شرائط اور عملدرآمد کے طریقہ کار سے متعین ہوگی۔ کانفرنس کے اختتام تک ممالک کے درمیان اختلافی امور پر پیش رفت اور مشترکہ اعلامیے کی نوعیت عالمی موسمیاتی پالیسی کے اگلے مرحلے کے لیے اہم اشارہ ہوگی۔
