کراچی: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مسدق ملک نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی آفات، تیز رفتار تکنیکی تبدیلی اور غیر مساوی عالمی معاشی نظام ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پاکستان کی معاشی کمزوریوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ان بحرانوں کا سب سے زیادہ بوجھ پہلے سے کمزور طبقات پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یہ بات آئی بی اے کراچی کے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کے اختتامی دن خطاب میں کہی۔

کانفرنس کا موضوع متعدد باہم جڑے بحرانوں سے نکل کر پائیدار معاشی مستقبل کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ اس میں ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، صنعت سے وابستہ نمائندوں اور طلبہ نے پاکستان کو درپیش معاشی، موسمیاتی اور حکمرانی کے مسائل پر گفتگو کی۔ مسدق ملک نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو صرف مجموعی قومی پیداوار میں نقصان کے پیمانے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ انسانی جانوں، روزگار اور معاشی مواقع کے ضیاع کو بھی پالیسی فیصلوں میں مرکزی حیثیت دی جائے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی سیاسی انتشار انسانی معاشروں اور معیشتوں کی بنیادی ساخت کو بدل رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی کی منتقلی کے اگلے مرحلے میں بیٹری اسٹوریج، تقسیم شدہ بجلی پیداوار اور برقی ٹرانسپورٹ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت بیان کی۔ ان کے مطابق برقی دو اور تین پہیہ گاڑیوں، چارجنگ انفراسٹرکچر اور نسبتاً سستی برقی نقل و حرکت کے لیے واضح پالیسی معاونت درکار ہے۔

شیری رحمان نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار عالمی قیمتوں، رسد میں رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کے اثرات کو ملکی معیشت تک تیزی سے منتقل کرتا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کہا کہ تکنیکی ترقی کے فوائد خودکار طور پر مساوی انداز میں تقسیم نہیں ہوتے، کیونکہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا اور سرمایہ رکھنے والے اداروں اور ممالک کو دوسروں پر نمایاں برتری حاصل رہتی ہے۔

آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے پاکستان کے معاشی، موسمیاتی، آبادی اور سیاسی مسائل کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلی ایسے بڑے چیلنج ہیں جن پر زیادہ سنجیدہ اور مسلسل توجہ درکار ہے۔ کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پائیدار ترقی کے لیے الگ الگ شعبوں کی پالیسیوں کے بجائے توانائی، ماحول، روزگار، ٹیکنالوجی اور سماجی تحفظ کو مربوط انداز میں دیکھنا ہوگا۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان بار بار شدید موسمی واقعات، توانائی کی بلند لاگت اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ مقررین کی آرا پالیسی تجاویز اور تجزیاتی موقف ہیں؛ ان سے کسی مخصوص معاشی نتیجے کی ضمانت اخذ نہیں کی جا سکتی، تاہم کانفرنس نے ان باہم مربوط خطرات کو قومی پالیسی بحث میں زیادہ نمایاں کرنے کی ضرورت پر اتفاق رائے سامنے رکھا۔