کراچی: پاکستان کے سمندری حیاتیاتی ریکارڈ میں ایک اہم اضافہ سامنے آیا ہے جہاں سندھ کے ساحلی پانیوں میں پہلی مرتبہ سپرم وہیل کی دستاویزی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سے منسلک ماہرین کے مطابق تقریباً 45 فٹ لمبی یہ وہیل کراچی سے لگ بھگ 40 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں دیکھی گئی۔

یہ مشاہدہ ایک سمندری مہم کے دوران ہوا جس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ رکن زاہد مجیر نے وہیل کی ویڈیو بنائی۔ فوٹیج میں جانور کی جسمانی خصوصیات، سانس لینے کا مخصوص سوراخ، جلد کے نشانات اور جسمانی ساخت دکھائی دی، جن کی بنیاد پر ماہرین نے اسے سپرم وہیل قرار دیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق سپرم وہیل اس سے پہلے بلوچستان کے ساحلی پانیوں میں دیکھی جا چکی ہے، تاہم سندھ کے پانیوں میں اس نوع کا یہ پہلا دستاویزی ریکارڈ ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ مشاہدہ پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام میں پائی جانے والی حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان کے سمندری پانیوں میں وہیل اور ڈولفن کی تقریباً 26 انواع ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ان میں بلیو وہیل، برائڈز وہیل اور بحیرہ عرب کی ہمپ بیک وہیل سمیت مختلف انواع شامل ہیں۔ سپرم وہیل دنیا کے سب سے بڑے دانتوں والے سمندری ممالیہ میں شمار ہوتی ہے اور خوراک کی تلاش میں سینکڑوں میٹر گہرائی تک غوطہ لگا سکتی ہے، جبکہ بعض اوقات اس سے کہیں زیادہ گہرے پانی میں بھی جاتی ہے۔

یہ جانور تاریک گہرے سمندر میں خوراک تلاش کرنے کے لیے ایکولوکیشن یعنی آواز کی لہروں سے سمت اور شکار کا اندازہ لگانے کی صلاحیت استعمال کرتا ہے۔ اس کی خوراک میں بڑی اسکوئڈ، دیگر نرم جسم والے سمندری جانور اور گہرے پانی کی مچھلیاں شامل ہوتی ہیں۔ سندھ میں پہلی بار اس کی موجودگی ریکارڈ ہونے سے سمندری حیات کی نگرانی، تحقیق اور تحفظ کی ضرورت مزید نمایاں ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان کے وسیع سمندری علاقے کا بڑا حصہ حیاتیاتی تحقیق کے اعتبار سے اب بھی محدود طور پر دستاویزی ہے۔