کراچی: ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان (WWF-Pakistan) نے سندھ کے ساحل سے دور سپرم وہیل کی پہلی ریکارڈ شدہ موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً 45 فٹ طویل وہیل کراچی کے ساحل سے دور ایک سمندری مہم کے دوران دیکھی گئی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ ماہرین نے اس مشاہدے کو پاکستان کے سمندری حیاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

WWF پاکستان کے مطابق یہ وہیل ادارے کے بورڈ رکن زاہد میکر کی ایک مہم کے دوران سامنے آئی۔ ریکارڈ کی گئی فوٹیج میں سپرم وہیل کی مخصوص سانس خارج کرنے والی ساخت، جلد کے نشانات اور جسمانی ابھار نمایاں تھے، جن کی بنیاد پر ماہرین نے نوع کی شناخت کی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحل کے قریب ماضی میں سپرم وہیل دیکھی جا چکی ہے، لیکن سندھ کے ساحلی پانیوں میں یہ پہلا دستاویزی مشاہدہ ہے۔

WWF پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے سمندری پانی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع رکھتے ہیں، تاہم اس کا بڑا حصہ اب بھی کم تحقیق شدہ اور ناکافی طور پر دستاویزی ہے۔ ان کے مطابق بڑی وہیلوں کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے آف شور پانی ماحولیاتی اعتبار سے اہم ہیں اور ان کے مسکن اور خوراکی زنجیروں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔

سپرم وہیل گہرے سمندر میں رہنے والی بڑی دانت دار وہیلوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی موجودگی عام طور پر ایسے سمندری ماحولیاتی نظام سے منسلک ہوتی ہے جہاں گہرے پانی کی خوراکی زنجیر فعال ہو۔ تاہم اس ایک مشاہدے کی بنیاد پر سندھ کے ساحل کے قریب اس نوع کی مستقل آبادی یا تعداد کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے لیے اس نوع کی نقل و حرکت، خوراک اور موسمی موجودگی جاننے کے لیے مزید مسلسل مشاہدات ضروری ہوں گے۔

پاکستان کا ساحلی اور خصوصی اقتصادی زون متعدد اقسام کی وہیل، ڈولفن، کچھوؤں اور دیگر سمندری جانداروں کا مسکن ہے۔ ماحولیاتی ماہرین سمندری آلودگی، ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے، جہاز رانی اور مسکن میں تبدیلی جیسے عوامل کو بڑی سمندری انواع کے لیے ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ سندھ کے ساحل پر سپرم وہیل کا یہ ریکارڈ سمندری حیاتیاتی ڈیٹا میں ایک اہم اضافہ ہے اور مستقبل میں تحفظ کی پالیسی، سائنسی سروے اور آف شور سرگرمیوں کی ماحولیاتی نگرانی کے لیے مفید حوالہ بن سکتا ہے۔