لاہور: پنجاب میں نومبر کے آغاز کے ساتھ سموگ اور فضائی آلودگی کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر صوبائی حکام نے تعلیمی اداروں اور شہری سرگرمیوں کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد سخت کر دیا ہے۔ لاہور اور صوبے کے دیگر گنجان آباد علاقوں میں موسم کی تبدیلی، کم ہوا، ٹریفک اور مختلف اخراجی ذرائع کے باعث فضائی معیار متاثر ہونے کے بعد انتظامیہ نے نگرانی اور نفاذ بڑھانے پر توجہ دی ہے۔
تعلیمی اداروں کو بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ان اقدامات میں بیرونی سرگرمیوں کو فضائی معیار کے مطابق محدود کرنا، حساس طلبہ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور سکول اوقات یا معمولات سے متعلق سرکاری احکامات کی پابندی شامل ہے۔ حکام نے والدین اور سکول انتظامیہ کو سرکاری فضائی معیار کی معلومات پر نظر رکھنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
سموگ کے خلاف کارروائی صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں۔ صوبائی ماحولیاتی اور ضلعی انتظامیہ صنعتی اخراج، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، کھلے مقامات پر کچرا جلانے اور تعمیراتی دھول جیسے عوامل کے خلاف نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان سرگرمیوں پر پابندی یا جرمانے متعلقہ ماحولیاتی قوانین اور ہنگامی اقدامات کے تحت نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
لاہور میں سردیوں کے آغاز پر فضائی آلودگی ایک بار پھر صحت عامہ کا بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ باریک ذرات خصوصاً پی ایم 2.5 کی بلند سطح سانس، آنکھوں اور دل کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ بچے، بزرگ اور پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد آلودہ ہوا کے اثرات کے لیے نسبتاً زیادہ حساس ہوتے ہیں۔
ماہرین طویل عرصے سے نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ سموگ ایک ہی ذریعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، گردوغبار، زرعی باقیات جلانے، توانائی کے استعمال اور موسمی حالات کے مشترکہ اثر سے بنتی ہے۔ اسی لیے عارضی پابندیوں کے ساتھ اخراج میں مستقل کمی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، صنعتی نگرانی اور علاقائی تعاون کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
صوبائی حکام کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ صحت عامہ کے تحفظ کے اقدامات نافذ کرتے ہوئے تعلیمی اور معاشی سرگرمیوں میں غیر ضروری خلل کم رکھا جائے۔ آنے والے دنوں میں پابندیوں یا اوقات کار میں مزید تبدیلی کا انحصار فضائی معیار اور موسمی حالات پر ہوگا، اس لیے شہریوں کو تازہ سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔
