کراچی: سندھ حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور علاقے میں پینے کے پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے فوری اور طویل مدتی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے غیر فعال ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹس کی فوری مرمت اور دوبارہ فعال کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے تھرپارکر میں پہلے سے موجود پانی کی فراہمی کے ذرائع کو بھی بحال کرنے کی ہدایت کی تاکہ متاثرہ آبادی کو دستیاب نظام کے ذریعے جلد از جلد پانی پہنچایا جا سکے۔ سرکاری اعلان میں ہر پلانٹ کی تعداد یا مرمت کی الگ مدت بیان نہیں کی گئی۔
مراد علی شاہ نے نوکوٹ سے مٹھی تک پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی پر بھی زور دیا۔ تھرپارکر کا بڑا حصہ خشک آب و ہوا اور محدود سطحی آبی وسائل کے باعث پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار رہتا ہے، اس لیے مستقل فراہمی کے لیے پائیدار انفراسٹرکچر اور موجودہ نظام کی دیکھ بھال دونوں اہم ہیں۔
آفت زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ انتظامی طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے صوبائی حکومت متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات، وسائل کی ترجیحی فراہمی اور متاثرہ آبادی کی ضروریات پر زیادہ توجہ دینے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم موجودہ سرکاری اطلاع میں کسی مخصوص مالی امدادی پیکیج، معاوضے یا فنڈ کی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ایسے اقدامات کے بارے میں الگ سرکاری فیصلوں کا انتظار ہوگا۔
تھرپارکر میں پانی کا مسئلہ صرف پینے کے پانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ مقامی آبادی، مویشیوں اور معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ آر او پلانٹس ماضی میں زیر زمین کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے نصب کیے گئے، لیکن ان کی دیکھ بھال اور فعالیت سے متعلق مسائل بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی تازہ ہدایت کا فوری مرکز غیر فعال پلانٹس اور موجودہ ذرائع کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
صوبائی حکومت کے فیصلے کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مرمت اور بحالی کے احکامات کتنی تیزی سے نافذ ہوتے ہیں اور نوکوٹ سے مٹھی تک طویل مدتی پانی فراہمی کی منصوبہ بندی کس شکل میں سامنے آتی ہے۔ فی الحال حکومت نے تھرپارکر کی صورتحال کو آفت زدہ ضلع کے درجے کے قابل سمجھتے ہوئے پانی کی فراہمی کو فوری انتظامی ترجیح بنا دیا ہے۔
