بھارتی دارالحکومت نئی دہلی دیوالی سے ایک روز قبل شدید فضائی آلودگی اور سموگ کی لپیٹ میں رہا، جبکہ سوئس فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کے اعدادوشمار کے مطابق شہر دنیا کے بڑے شہروں میں آلودگی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔ رائٹرز کے مطابق سرد موسم کے آغاز، کم ہوا، مقامی اخراج اور علاقائی عوامل کے امتزاج نے دارالحکومت کی فضا کو مزید خراب کیا۔

نئی دہلی اور اس کے گردونواح میں ہر سال موسم خزاں اور سردیوں کے دوران آلودگی ایک سنگین صحت اور انتظامی مسئلہ بن جاتی ہے۔ گاڑیوں اور صنعتوں سے اخراج، تعمیراتی گرد، کوڑا جلانے اور شمالی بھارت کی زرعی ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کو مختلف اوقات میں آلودگی کے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ دیوالی کے موقع پر آتش بازی بھی فضائی معیار پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، اسی لیے حکام عموماً پابندیوں اور نگرانی کے اقدامات کا اعلان کرتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ میں 6 نومبر کو شہر میں گہری سموگ کے مناظر کا ذکر کیا گیا، جبکہ 7 نومبر کو آلودگی کی عالمی درجہ بندی میں دہلی کی صورتحال نمایاں رہی۔ فضائی آلودگی میں باریک ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔ طویل یا شدید نمائش سانس اور قلبی بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

فضائی معیار کی عالمی درجہ بندی لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے کسی شہر کا مقام مستقل حیثیت نہیں رکھتا۔ تاہم دیوالی کے موقع پر نئی دہلی میں آلودگی کی یہ شدت ایک بار پھر اس دیرینہ مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے جس کے لیے مقامی اور بین الریاستی سطح پر اخراج میں کمی، فصلوں کی باقیات کے متبادل انتظام اور ٹرانسپورٹ و صنعتی آلودگی کی نگرانی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

یہ رپورٹ دستیاب مانیٹرنگ ڈیٹا اور رائٹرز کی 7 نومبر کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ مختلف مانیٹرنگ نیٹ ورکس کے پیمائش کے مقامات اور طریقہ کار مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے عددی اشاریوں میں فرق ممکن ہے۔