اسلام آباد: وفاقی حکومت فکسڈ انکم ٹیکس اسکیم اختیار نہ کرنے والے تقریباً 12 لاکھ دکانداروں کے خلاف فوری کارروائی کے بجائے انہیں مزید تین ماہ کی مہلت دینے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس حکام نے اس ہفتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے سامنے دو آپشنز رکھے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

پہلے آپشن کے تحت اہل دکانداروں کو جنوری 2027 کے اختتام تک اسکیم میں آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن تاخیر کے ساتھ سرچارج بڑھتا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق نومبر کے اختتام تک 10 ہزار روپے، دسمبر کے اختتام تک مجموعی طور پر 35 ہزار روپے اور جنوری کے اختتام تک 85 ہزار روپے تک ادائیگی کی تجویز زیر غور ہے۔ دوسرا راستہ عام انکم ٹیکس قانون کے تحت کارروائی ہے، جس میں ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ سے متعلق جرمانوں کی وجہ سے فوری مالی بوجھ کم از کم 175 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے اور ٹیکس آڈٹ و اثاثوں کے مکمل انکشاف کی شرائط بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔

حکومت نے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم اس مقصد سے متعارف کرائی تھی کہ ایک دکان رکھنے والے چھوٹے ریٹیلرز مجموعی فروخت پر ایک فیصد ٹیکس ادا کر کے آڈٹ سے عمومی استثنا حاصل کر سکیں۔ حکام کو امید تھی کہ تقریباً 38 لاکھ نان فائلر ریٹیلرز میں سے کم از کم دس لاکھ اسکیم میں شامل ہوں گے اور تقریباً 50 ارب روپے انکم ٹیکس جمع ہوگا۔ تاہم 31 اکتوبر کی آخری تاریخ تک صرف 222 نئے تاجروں نے ریٹرن جمع کرائے اور وصولی نہایت محدود رہی۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس حکام نے تقریباً 15 لاکھ ریٹیلرز کی نشاندہی کی ہے جو اسکیم کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان میں تقریباً دو لاکھ 90 ہزار پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ ہیں، جبکہ باقی تقریباً 12 لاکھ نے نئی اسکیم اختیار نہیں کی۔ ان میں تقریباً تین لاکھ 90 ہزار رجسٹرڈ ریٹیلرز اور سات لاکھ 72 ہزار غیر رجسٹرڈ دکاندار شامل بتائے گئے ہیں۔ تقریباً چھ ہزار دکانداروں کی فزیکل تصدیق بھی مکمل ہو چکی ہے، جنہیں ممکنہ ابتدائی نوٹسز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس معاملے میں قانونی پہلو بھی زیر بحث ہے۔ حکام سیکشن 214A کے تحت عمومی رعایت یا وقت میں توسیع کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ سوال بھی موجود ہے کہ دوسرے تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کے مقابلے میں تاجروں کے لیے مختلف جرمانہ نظام امتیازی تو نہیں ہوگا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتا چکے ہیں کہ حکومت کسی نفاذی کارروائی سے پہلے اٹارنی جنرل کی رائے لے گی، اگرچہ انہوں نے اس وقت مزید توسیع نہ دینے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔

اس لیے فی الحال تین ماہ کی اضافی مہلت کو حتمی حکومتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ معاملہ وزیر خزانہ اور متعلقہ حکام کے زیر غور ہے اور نئی مدت، سرچارج یا نفاذی کارروائی کی حتمی شکل باضابطہ منظوری کے بعد واضح ہوگی۔