لاہور: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی سے متعلق مطالبات پر باضابطہ مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت اپنی کمیٹی بنا چکی ہے اور جماعت اسلامی سے بھی مذاکراتی ٹیم نامزد کرنے کو کہا گیا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق جماعت اسلامی اگر پٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرتی ہے تو حکومت ان پر غور کرے گی۔ دوسری جانب حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ مذاکرات شروع ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے دھرنے ختم نہیں ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، بڑھتی ایندھن قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی، جس کا مختلف شہروں میں ملا جلا اثر رپورٹ ہوا۔

یہ اتفاق کسی حتمی مالیاتی رعایت یا لیوی میں فوری کمی کا اعلان نہیں ہے۔ کمیٹیوں کا مقصد تجاویز، مالی گنجائش اور حکومتی موقف پر بات کرنا ہے۔ پٹرولیم لیوی وفاقی آمدن کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس میں کسی بڑی تبدیلی کے اثرات بجٹ، محصولات اور صارفین کو ملنے والے ممکنہ ریلیف تینوں پہلوؤں سے دیکھے جائیں گے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ موجودہ لیوی عوام پر بوجھ بڑھا رہی ہے، جبکہ حکومت کو مالیاتی اہداف اور اخراجات بھی مدنظر رکھنے ہیں۔

مذاکرات کے ساتھ احتجاج جاری رکھنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ بحال ہونے کے باوجود بنیادی مطالبات پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔ آئندہ مرحلے میں کمیٹیوں کی تشکیل، اجلاسوں کا شیڈول اور پٹرولیم لیوی سے متعلق مخصوص تجاویز اہم ہوں گی۔ جب تک کوئی باضابطہ حکومتی فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، لیوی میں کمی کو طے شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔