لاہور: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ کمی اور صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ماہرین کی الگ الگ کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

احسن اقبال کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی جس میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور عوامی اخراجات سے متعلق مطالبات پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ماہر کمیٹی تشکیل دے گی اور جماعت اسلامی سے بھی اپنی کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے تاکہ دونوں ٹیمیں اعداد و شمار، مالی گنجائش اور عملی طریقہ کار پر مشترکہ غور کر سکیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے یقین دہانی کرائی کہ قابل عمل سفارشات سامنے آنے پر حکومت ان کا جائزہ لے کر کارروائی کرے گی۔

یہ اتفاق کسی فوری ٹیکس کٹوتی یا پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا نوٹیفکیشن نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال میں پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مجموعی رقم 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔ کمیٹیوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آمدن میں ممکنہ کمی کا متبادل کہاں سے آئے گا اور صارفین تک ریلیف کس طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کے علاوہ دیگر عوامی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے دھرنوں کا جمعرات کو انیسواں روز تھا اور ملک کے بیس سے زیادہ مقامات پر احتجاج جاری تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کم آمدن رکھنے والے موٹر سائیکل سوار سمیت عام صارف بھی ہر لیٹر ایندھن پر بھاری بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے، اس لیے پارٹی کی بنیادی ترجیح لیوی کا خاتمہ اور قیمتوں میں کمی ہے۔

جماعت اسلامی نے اپنی مجوزہ ماہر کمیٹی کی سربراہی لیاقت بلوچ کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق نوید علی بیگ، ضیاء الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور فراست شاہ بھی اس ٹیم میں شامل ہوں گے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی مذاکرات میں غیر لچک دار طرز عمل اختیار نہیں کرے گی، لیکن حکومت کی درخواست کے باوجود دھرنے بات چیت کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دونوں کمیٹیاں دو ہفتوں کے اندر کسی قابل عمل حل تک پہنچنے کی کوشش کریں گی اور حکومت سفارشات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوگی۔ یہ بیان ایک سیاسی و انتظامی عزم ہے؛ حتمی فیصلہ کمیٹیوں کی رپورٹ، وفاقی مالیاتی ذمہ داریوں اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

جماعت اسلامی نے اگست کے وسط میں صوبائی دارالحکومتوں میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کا اعلان کیا تھا اور 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال بھی دی تھی۔ تازہ مذاکرات سے فریقین کے درمیان رابطے کا باقاعدہ راستہ کھلا ہے، لیکن احتجاج کے خاتمے، لیوی میں کمی کی مقدار یا نئی قیمت کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ آئندہ دو ہفتوں میں کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کے تحریری مینڈیٹ سے واضح ہوگا کہ یہ عمل عملی ریلیف تک پہنچتا ہے یا مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔