اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ سربراہی اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی اجتماع کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ ضروری ہے اور موجودہ سرکاری بیڑے میں دستیاب جدید ترین بلٹ پروف گاڑیوں میں چند 2016 ماڈل شامل ہیں جو اجلاس کی مطلوبہ سکیورٹی ضروریات سے کم قرار دی گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کے بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مطلوبہ 65 گاڑیوں کے مقابلے میں 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد مختلف فورمز پر جائزے کے بعد کم از کم ضرورت کی بنیاد پر طے کی گئی۔ بیان میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزارت خارجہ و وزارت داخلہ نے بھی اس ضرورت کی تائید کی۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق 15 بی ایم ڈبلیو 760i xDrive VR9 بلٹ پروف سیڈان تقریباً 3 ارب روپے میں خریدنے کا منصوبہ ہے، جبکہ 30 مرسڈیز بینز مے باخ S680 گارڈ VR10 گاڑیوں کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی پہلے ہی 6.60 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کر چکی ہے۔ یوں رپورٹ شدہ مجموعی لاگت تقریباً 9.6 ارب روپے بنتی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے یہ بھی کہا کہ اجلاس کے مجموعی ٹرانسپورٹ انتظامات میں تقریباً 300 غیر بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر لی جائیں گی۔

حکومت نے خریداری پر پریس اور سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بیرونی خطرات کے تناظر میں سربراہان مملکت اور حکومت کے لیے مناسب حفاظتی گاڑیاں ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب سابق سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور پاکستان تحریک انصاف سمیت ناقدین نے اخراجات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ اعتراضات سیاسی و عوامی تنقید ہیں، جبکہ کابینہ ڈویژن نے خریداری کو اجلاس کی سکیورٹی اور میزبانی کی ضرورت قرار دیا ہے۔

ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا اجلاس اگست تا ستمبر 2027 اسلام آباد میں متوقع ہے۔ حکومت کے مطابق اس میں رکن ممالک کے سربراہان اور بین الاقوامی اداروں کے سینئر نمائندے شریک ہوں گے۔ گاڑیوں کی خریداری کے معاملے میں سرکاری جواز اور اخراجات پر تنقید دونوں سامنے آ چکے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق 45 گاڑیوں کی منظوری حکومتی فیصلہ ہے اور اس کے عملی خریداری مراحل متعلقہ قواعد اور مالی منظوریوں کے تحت آگے بڑھیں گے۔