لاہور: مقامی عدالت نے آذربائیجان کی شہری خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں نامزد خاتون ملزمہ مسکان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ عدالتی حکم تفتیش کے مرحلے سے متعلق ہے اور اسے ملزمہ کے خلاف جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد طے ہوگی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے کینٹ کچہری میں سماعت کی، جہاں پولیس نے ملزمہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ملزمہ کا پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور مزید تفتیش کے لیے اسے پولیس تحویل میں رکھنا ضروری ہے۔ دفاعی وکیل نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسکان اور متاثرہ خاتون کے درمیان تعلق صرف دوستی تک محدود تھا اور ملزمہ سے کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کی جانی جس کے لیے جسمانی تحویل ضروری ہو۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ مقدمہ لاہور کے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ شکایت کے مطابق آذربائیجانی خاتون کاروباری مقصد سے پاکستان آئی تھیں اور الزام ہے کہ ڈیفنس کے ایک کرائے کے فلیٹ میں ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی۔ یہ واقعہ اور اس میں مختلف افراد کے کردار کے دعوے ابھی پولیس تحقیقات کا حصہ ہیں۔
ایک روز پہلے اسی مقدمے میں دو مرد ملزمان کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا گیا تھا۔ ایک دوسری خاتون ملزمہ نے عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے پولیس کو پانچ اکتوبر تک اس کی گرفتاری سے روکتے ہوئے اسے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی اور پولیس سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی۔
مقدمے میں متعدد ملزمان کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں، اس لیے ہر عدالتی حکم کی قانونی نوعیت الگ ہے۔ جسمانی ریمانڈ پولیس کو محدود مدت کے لیے تفتیش کی اجازت دیتا ہے، جبکہ کسی بھی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین ٹرائل اور عدالتی فیصلے سے ہوگا۔
