خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں باڑہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق پانچ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ بزنس ریکارڈر نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فورسز کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ رپورٹ میں ہلاک افراد کو ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے وابستہ قرار دیا گیا ہے؛ یہ شناخت اور وابستگی بھی سکیورٹی ذرائع کا بیان ہے۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ ہوا اور پانچ افراد مارے گئے۔ آپریشن کے بعد بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے بعض ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ رپورٹ میں کسی سکیورٹی اہلکار کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ ہلاک افراد کی انفرادی شناخت، برآمد شدہ اسلحے کی مکمل تفصیل اور آپریشن کے درست مقام کے مزید جزئیات بھی فراہم نہیں کیے گئے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ کارروائی خیبرپختونخوا میں جاری انسداد دہشت گردی اقدامات کے سلسلے میں کی گئی اور سکیورٹی ذرائع نے اسے عزمِ استحکام کے وژن کے تحت جاری آپریشنز سے جوڑا۔ ذرائع نے کہا کہ فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

اس واقعے کے بارے میں دستیاب بنیادی معلومات سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں، اس لیے رپورٹ میں ان دعوؤں کو سرکاری یا سکیورٹی مؤقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، آزادانہ عدالتی یا دیگر غیر جانب دار تصدیق کے طور پر نہیں۔ خبر کے دستیاب متن میں گرفتار افراد، شہریوں کے نقصان، آپریشن کے دورانیے یا کسی بعد کی سرچ اینڈ کلیئرنس کارروائی کی تفصیل شامل نہیں تھی۔

باڑہ خیبر ضلع کا وہ علاقہ ہے جہاں ماضی میں بھی سکیورٹی صورتحال کے باعث انسداد دہشت گردی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم موجودہ خبر کی تصدیق صرف 30 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیے گئے اسی مخصوص آپریشن اور سکیورٹی ذرائع کے بیان تک محدود ہے۔ مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں ہلاک افراد کی شناخت، مبینہ تنظیمی وابستگی اور برآمدگیوں سے متعلق معلومات زیادہ واضح ہو سکتی ہیں۔