پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کے قبضے سے ایم ٹی آنر 25 نامی بحری جہاز کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی میں پانچ عملہ ارکان ہلاک ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل تھے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت خارجہ نے پاکستانی جاں بحق افراد کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے کی ہے۔ حکومت پاکستان نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق آپریشن میں چار عملہ ارکان زخمی بھی ہوئے، جن میں تین پاکستانی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ ایم ٹی آنر 25 کے زندہ بچ جانے والے عملہ ارکان کو صومالیہ کے ساحلی مقام بندر بیلا پر محفوظ طور پر پہنچا دیا گیا۔ پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم، جو جبوتی میں تعینات ہے، پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستانی مشن اور متعلقہ حکام صومالی حکام اور دیگر فریقوں سے رابطے میں ہیں۔

یہ جہاز ایک پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والا ٹینکر ہے جس پر پلاؤ کا پرچم تھا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے اسے قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 17 عملہ ارکان موجود تھے اور کم از کم 10 پاکستانی بھی عملے کا حصہ تھے۔ ہائی جیکنگ کے بعد پاکستانی حکام نے سفارتی اور امدادی رابطے شروع کیے تھے تاکہ عملے کی خیریت اور رہائی کے لیے پیش رفت کی جا سکے۔

پنٹ لینڈ کی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ مقامی سکیورٹی فورسز نے ایم ٹی آنر 25 کو بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب کر لیا ہے۔ دفتر خارجہ کی نئی اطلاع نے اس آپریشن میں ہونے والے جانی نقصان اور پاکستانی متاثرین کی شناخت کی تفصیل فراہم کی۔ اس خبر میں کارروائی کے مکمل عسکری طریقہ کار، فائرنگ کے تبادلے کی تفصیلی ترتیب یا تمام ہلاک افراد کی قومیتوں کی مکمل فہرست نہیں دی گئی۔

واقعے سے متعلق ہلاکتوں، زخمیوں اور پاکستانی شہریوں کے ناموں کی معلومات دفتر خارجہ کے بیان پر مبنی ہیں۔ مزید انتظامی اقدامات، میتوں کی وطن واپسی اور زخمیوں کی صحت کے بارے میں نئی معلومات متعلقہ حکام کے آئندہ اعلانات سے سامنے آ سکتی ہیں۔ موجودہ تصدیق یہ ہے کہ تین پاکستانی جاں بحق ہوئے، تین پاکستانی زخمیوں سمیت چار افراد زخمی ہیں اور زندہ بچ جانے والے عملے کو ساحل پر منتقل کر دیا گیا ہے۔