پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے نئے قومی مالیاتی کمیشن، این ایف سی، ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر کے خلاف درخواست پر این ایف سی کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان کو آئندہ سماعت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات خان میاں خیل پر مشتمل بینچ نے کیس کی اگلی سماعت 11 نومبر مقرر کی۔
درخواست سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے وفاقی حکومت کے خلاف دائر کی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آئینی اور زمینی حقائق میں بڑی تبدیلیوں، خصوصاً سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام، اختیارات کی صوبوں کو منتقلی اور نئی مردم شماریوں کے بعد تازہ این ایف سی ایوارڈ ضروری ہے۔ یہ درخواست گزار کے قانونی دلائل ہیں اور عدالت نے ابھی ان کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
عدالت کے سامنے دو متعلقہ درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں جن میں قبائلی اضلاع کے لیے وفاقی قابل تقسیم محاصل میں تین فیصد حصے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انضمام کے بعد خیبرپختونخوا کی آبادی اور مالی ذمہ داریاں بڑھی ہیں، اس لیے صوبے کے حصے کا ازسرنو تعین ہونا چاہیے۔ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آخری این ایف سی ایوارڈ فاٹا کے انضمام سے پہلے جاری ہوا تھا۔
وفاق کی جانب سے معاون اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ این ایف سی ایوارڈ صرف وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں کیونکہ تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ بھی کمیشن کا حصہ ہوتے ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران ماضی کی وفاقی حکومتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور اس معاملے میں اٹارنی جنرل کی موجودگی ضروری قرار دی۔
ریکارڈ کے مطابق نیا این ایف سی ایوارڈ 2010 کے بعد جاری نہیں ہوا۔ زیر سماعت مقدمے میں عدالت فی الحال فریقین کے آئینی اور مالی دلائل سن رہی ہے۔ اٹارنی جنرل کی طلبی ایک عدالتی کارروائی ہے، نہ کہ درخواست گزار کے دعووں کی حتمی توثیق۔ اگلی سماعت میں وفاقی مؤقف اور کمیشن کا جواب کیس کی آئندہ سمت کے لیے اہم ہوگا۔

