اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے والے جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن میں لاپتا ہونے والے پانچ عملے کے ارکان میں تین پاکستانی شہری شامل تھے۔ حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے چار عملے کے افراد میں بھی تین پاکستانی شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق پاکستانی حکام متعلقہ ممالک اور اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ متاثرہ پاکستانیوں کے معاملات، بشمول میتوں کی وطن واپسی اور زخمیوں سے متعلق ضروری انتظامات، مکمل کیے جا سکیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے بحری آپریشن سے متعلق ہے جس کا مقصد صومالی قزاقوں کے قبضے میں جانے والے تجارتی جہاز کو بازیاب کرانا تھا۔

بحری قزاقی کے واقعات میں عملے کی سلامتی ایک بنیادی تشویش ہوتی ہے کیونکہ بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر مختلف ملکوں کے شہری خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد متعلقہ ریاستیں جہاز کے مالک، پرچم بردار ریاست، ساحلی حکام اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ذریعے شہریوں کی شناخت، طبی امداد اور وطن واپسی کے انتظامات کرتی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اس معاملے میں تین پاکستانی شہریوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کرکے پہلے سے گردش کرنے والی معلومات کی نوعیت واضح کی ہے۔ حکام کی توجہ اب متاثرہ خاندانوں تک باضابطہ معلومات پہنچانے، زخمی افراد کی دیکھ بھال اور جاں بحق افراد کی میتیں پاکستان منتقل کرنے کے عملی مراحل پر ہے۔

واقعے کی مکمل آپریشنل تفصیلات اور ہائی جیکنگ سے بازیابی تک کے تمام مراحل کے بارے میں مختلف متعلقہ حکام کی معلومات سامنے آ رہی ہیں، تاہم پاکستانی شہریوں کے حوالے سے قابل اعتماد سرکاری مؤقف دفتر خارجہ کی تصدیق ہے۔ مزید تفصیلات متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی باضابطہ معلومات کے مطابق واضح ہوں گی۔