پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے نئے ایوارڈ میں تاخیر سے متعلق مقدمے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی اور مالیاتی تقاضوں کے مطابق نظرثانی شدہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے خیبرپختونخوا سمیت صوبوں کے حصوں کا تعین کیا جانا چاہیے۔
یہ درخواست سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سے منسوب ہے، جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل کی تقسیم کے موجودہ انتظام اور نئے ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر کو عدالتی جائزے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی آئینی اہمیت کے پیش نظر وفاق کے اعلیٰ قانونی افسر کی معاونت طلب کی ہے۔
این ایف سی پاکستان کے وفاقی مالیاتی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے ذریعے وفاقی ٹیکس محاصل میں سے صوبوں کے حصے کا تعین کیا جاتا ہے، جبکہ آبادی، غربت، محصولات کی وصولی اور رقبے سمیت مختلف عوامل مالی تقسیم کے فارمولے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ نئے ایوارڈ میں تاخیر کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت، پولیس، مقامی ترقی اور دیگر خدمات کے لیے قابل تقسیم محاصل پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔
خیبرپختونخوا طویل عرصے سے اپنے مخصوص مالی تقاضوں، سکیورٹی اخراجات اور ضم شدہ اضلاع سے متعلق اضافی ذمہ داریوں کا معاملہ وفاقی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔ زیر سماعت درخواست میں عدالت سے مالیاتی تقسیم کے آئینی طریقہ کار پر عمل درآمد سے متعلق ہدایات کی استدعا کی گئی ہے۔
اٹارنی جنرل کی طلبی مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کا ایک مرحلہ ہے۔ وفاقی حکومت کا تفصیلی قانونی مؤقف اور عدالت کے آئندہ احکامات سماعت کے دوران سامنے آئیں گے، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ عدالت نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجرا اور صوبائی حصوں سے متعلق درخواست پر کیا قانونی سمت اختیار کرتی ہے۔
