اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملک سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال بھی ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد، حمایت اور عوامی روابط پر قائم ہیں۔
وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو دوطرفہ شراکت داری کی نمایاں مثال قرار دیا اور کہا کہ سی پیک 2.0 میں روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ صنعت کاری، خصوصی اقتصادی زونز، ڈیجیٹل شعبوں، زراعت اور معدنی وسائل کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے مختلف عالمی اقدامات کی پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے زرعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی زرعی گریجویٹس کے پہلے ایک ہزار رکنی گروپ نے چین میں تربیت مکمل کی ہے جبکہ مزید ایک ہزار گریجویٹس کو تربیت کے لیے بھیجنے کی تیاری ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کی مہارت بڑھانا اور زرعی شعبے میں جدید طریقہ کار سے استفادہ کرنا ہے۔
تقریب سے خطاب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیدونگ نے دوطرفہ معاشی تعاون کے اعدادوشمار پیش کیے۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنوری سے جولائی کے دوران پاکستان اور چین کی باہمی تجارت 16.44 ارب ڈالر رہی جو سالانہ بنیاد پر 13.4 فیصد زیادہ ہے، جبکہ جنوری سے اگست کے دوران زرعی تجارت تقریباً 830 ملین ڈالر تک پہنچی اور اس میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چینی سفیر نے یہ بھی کہا کہ چین صنعت، زراعت اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور سی پیک 2.0 کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ پاکستان چین آزاد تجارتی معاہدے کے اپ گریڈڈ ورژن پر کام آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ قیادت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد اور دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی فائدے کے لیے پاک چین شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
