پاکستان کے چاول کے شعبے میں پانی کے استعمال اور میتھین کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ زرعی طریقوں کے فروغ پر گوجرانوالہ میں ایک بڑی مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں کسانوں، محققین، صنعت کے نمائندوں اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ ڈان کے مطابق مجوزہ طریقہ کار کا ہدف زرعی پانی کی کھپت میں تقریباً ایک تہائی اور میتھین کے اخراج میں قریب نصف کمی لانا ہے، جبکہ کسانوں کو بین الاقوامی کاربن مارکیٹ سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے قابل بنانا بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

مشاورت میں گوجرانوالہ کے کمشنر محمد علی بطور مہمان خصوصی اور گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہر سمیت متعلقہ شعبوں کے ماہرین شریک ہوئے۔ منصوبے کو Supporting Preparedness for Article 6 Cooperation پروگرام اور Global Green Growth Institute کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اس کے مجوزہ نفاذ میں Galaxy Agrinomix اور Pakistan Basmati Heritage Foundation شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ گولڈ اسٹینڈرڈ کے تحت رجسٹر کرنے کی تجویز ہے تاکہ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت کاربن فنانس کے امکانات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم یہ مالی فوائد خودکار یا یقینی نہیں ہیں؛ ان کا انحصار منصوبے کی رجسٹریشن، اخراج میں قابل تصدیق کمی، متعلقہ معیارات اور کاربن مارکیٹ کے قواعد پر ہوگا۔

تکنیکی منصوبے کا مرکزی حصہ ’آلٹرنیٹ ویٹنگ اینڈ ڈرائنگ‘ یا AWD طریقہ ہے۔ روایتی طور پر چاول کے کھیت مسلسل پانی میں ڈوبے رکھے جاتے ہیں، جبکہ AWD میں کھیت کو کنٹرول شدہ وقفوں سے خشک ہونے دیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق دوبارہ آبپاشی کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسان سوراخ دار سادہ فیلڈ ٹیوبوں کی مدد سے زیر زمین پانی کی سطح دیکھ سکتے ہیں اور اسی بنیاد پر آبپاشی کا وقت طے کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عمران شیخ، شازمہ امین اور ڈاکٹر امجد بشیر سمیت تکنیکی ماہرین نے وضاحت کی کہ طریقہ استعمال کرتے ہوئے چاول کے پھول آنے کے حساس مرحلے میں کھیت میں مناسب پانی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پانی کی بچت کا مقصد فصل کو غیر ضروری آبی دباؤ میں ڈالنا نہیں بلکہ آبپاشی کو زیادہ درست اور ضرورت کے مطابق بنانا ہے۔

پاکستان میں چاول اہم برآمدی فصل ہونے کے ساتھ بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتا ہے، جبکہ مسلسل زیر آب کھیت میتھین کے اخراج کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اسی لیے پانی کی کارکردگی، پیداوار کے تحفظ اور اخراج میں کمی کو ایک ساتھ حاصل کرنے والی تکنیکیں زرعی اور موسمیاتی پالیسی دونوں کے لیے اہم ہیں۔ گوجرانوالہ کی مشاورت ابھی منصوبے کے نفاذ اور ممکنہ رجسٹریشن کی سمت ایک قدم ہے؛ عملی نتائج کا تعین کھیتوں میں استعمال، پیمائش اور آزاد تصدیق کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔