اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 میں ترامیم کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا ہے جس کا بنیادی مقصد وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (پی سی سی اے) کے درمیان ذمہ داریوں اور اختیارات کی حد بندی کو زیادہ واضح بنانا ہے۔ ڈان کی 17 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ترامیم میں پالیسی سازی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی میں وزارت کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچے میں بعض ذمہ داریوں کے باہمی تداخل کو کم کرنے، موسمیاتی حکمرانی کو زیادہ منظم بنانے اور وزارت و اتھارٹی کے درمیان ادارہ جاتی رابطے کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 نے ملک میں موسمیاتی پالیسی کے لیے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا تھا اور اسی قانون کے تحت پاکستان کلائمیٹ چینج کونسل اور پی سی سی اے جیسے اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔
مجوزہ قانون سازی کا مطلب یہ نہیں کہ ترامیم نافذ ہو چکی ہیں۔ بل ابھی پارلیمانی قانون سازی کے مرحلے میں ہے اور اس کی حتمی شکل متعلقہ ایوانوں میں بحث، ممکنہ ترامیم اور آئینی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد ہی طے ہوگی۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر اسے حکومتی تجویز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ نافذ شدہ قانونی تبدیلی کے طور پر۔
پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیائی خطرات اور غیر معمولی بارشوں سمیت متعدد موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں وفاقی سطح پر پالیسی سازی، عمل درآمد، بین الاقوامی مذاکرات اور مختلف اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی وضاحت عملی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مجوزہ ترامیم منظور ہوتی ہیں تو ان کا ایک اہم امتحان یہ ہوگا کہ وزارت اور اتھارٹی کے کردار کی نئی تقسیم فیصلوں کی رفتار، جواب دہی اور صوبوں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کو کس حد تک بہتر بناتی ہے۔
رپورٹ میں کسی مخصوص منصوبے کے بجٹ، نئے مالیاتی پیکیج یا فوری انتظامی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پیش رفت کا مرکز قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچے کی وضاحت ہے، جس کے نتائج بل کی حتمی منظوری اور بعد ازاں اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے سامنے آئیں گے۔

