راولپنڈی: پنجاب محکمہ زراعت نے بارانی خطہ پوٹھوہار میں منی ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں 30 جون 2027 تک 150 منی ڈیم تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبہ تین سالہ زرعی تبدیلی پروگرام کا حصہ ہے اور حکومت کسانوں کو منی ڈیم بنانے کے لیے 70 فیصد سبسڈی فراہم کرے گی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں گزشتہ مالی سال کے دوران 111 منی ڈیم مکمل کیے گئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں ہر منی ڈیم کے لیے 17 لاکھ 50 ہزار روپے کی سبسڈی مقرر کی گئی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بارش کے پانی کو محفوظ کر کے زرعی استعمال کے لیے دستیاب کرنا ہے۔
پوٹھوہار کا بڑا حصہ بارانی زراعت پر منحصر ہے، جہاں فصلوں کی پیداوار براہ راست بارش کی مقدار اور اس کے وقت سے متاثر ہوتی ہے۔ محکمہ زراعت کے منصوبے کے تحت بارش کے موسم میں جمع ہونے والا پانی چھوٹے آبی ذخائر میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ اسے سال کے دوسرے حصوں میں کھیتوں اور باغات کی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق مستقل یا نسبتاً قابلِ اعتماد پانی کی دستیابی سے کسانوں کو فصلوں کی منصوبہ بندی میں سہولت مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں منصوبے کے متوقع فوائد میں مٹی کے کٹاؤ میں کمی، بارش اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کو محدود کرنا، قابل کاشت زمین کے لیے سال بھر پانی کی دستیابی بہتر بنانا اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو سہارا دینا شامل بتایا گیا ہے۔ منی ڈیموں کے ذریعے باغبانی، مویشی بانی اور مچھلی کی افزائش جیسی اضافی زرعی سرگرمیوں کے امکانات بھی پیدا کیے جانے کی توقع ہے۔
مقامی کسانوں نے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی دستیابی بہتر ہونے سے فصلوں اور باغات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بعض کاشتکاروں کے مطابق چھوٹے آبی ذخائر میں مچھلی کی افزائش بھی گھریلو استعمال یا اضافی آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم ان فوائد کا حقیقی حجم ڈیموں کی تعمیر کے معیار، مقامی جغرافیہ، بارش کی مقدار، پانی کے انتظام اور کسانوں کی عملی رسائی پر منحصر ہوگا۔
یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت کے زرعی پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے لیے 150 ڈیموں کا ہدف مقرر ہونے کے بعد محکمہ زراعت کو مقررہ مدت کے اندر مقامات کے انتخاب، تعمیر اور سبسڈی کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ بارانی علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں عملی اضافہ ہو سکے۔

