تھرپارکر: بارشوں کی کمی اور بارانی فصلوں کی ناکامی کے بعد تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں مویشی پال خاندان ایک بار پھر اپنے جانوروں کے ساتھ بیراجی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر چراگاہیں خشک ہونے، چارے کی قلت اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے پہلے سے کمزور دیہی معیشت پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ابتدائی بارشوں کے بعد کسانوں نے باجرہ، گوار اور دوسری بارش پر منحصر فصلیں کاشت کی تھیں، لیکن بعد کی بارشیں مطلوبہ وقت اور مقدار میں نہ آنے سے متعدد کھیت سوکھ گئے۔ فصلوں کی ناکامی کے ساتھ قدرتی چراگاہوں میں سبزہ کم ہوا اور مویشیوں کے لیے چارہ اور پانی حاصل کرنا مشکل ہوتا گیا، جس کے نتیجے میں کئی خاندان اپنے دیہات چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

مٹھی تعلقہ کے گاؤں وی ہنگورجا سے تعلق رکھنے والے مویشی پال کھیمون بھیل نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی بارشوں کے بعد تقریباً 20 ایکڑ زمین کاشت کی تھی، مگر بعد کی خشک مدت نے فصل تباہ کر دی۔ ان کے مطابق ٹریکٹر اور بیج پر ہونے والی لاگت بھی ضائع ہو گئی اور مویشیوں کے لیے چارہ نہ ہونے کے باعث انہیں دوبارہ بیراجی علاقے کی طرف جانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض خاندان اس سفر کے لیے ایک ہفتے سے زیادہ کا راشن ساتھ لے کر نکلتے ہیں۔

تھرپارکر کے دیہی گھرانوں کی آمدن کا بڑا حصہ موسمی بارش، محدود کاشت کاری اور مویشیوں سے جڑا ہے۔ فصل ناکام ہونے کی صورت میں خاندان صرف اناج سے محروم نہیں ہوتے بلکہ چارہ، دودھ اور مویشیوں سے حاصل ہونے والی آمدن بھی متاثر ہوتی ہے۔ مقامی گندم کی محدود پیداوار کے باعث بیشتر گھرانے بنیادی خوراک کے لیے بازار پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے قیمتوں میں اضافہ اور آمدن میں کمی خوراک تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

بچوں اور حاملہ خواتین میں غذائی کمی بھی ایک اہم تشویش ہے۔ رپورٹ میں مٹھی سول اسپتال میں مارچ سے جون 2024 کے دوران شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے آنے والے 129 بچوں پر مبنی ایک طبی مطالعے کا حوالہ دیا گیا، جس میں 117 بچوں میں خون کی کمی پائی گئی۔ یہ مطالعہ جنوری 2026 میں شائع ہوا تھا اور موجودہ خشک سالی کی صورت حال میں غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دینے کا عمل شروع نہ ہونے پر مقامی سماجی کارکن اور وکیل قربان سمیجو نے سندھ ہائیکورٹ کے میرپورخاص سرکٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ حالات کے جائزے اور صوبائی حکومت کو سفارش بھیجنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے آفت زدہ قرار دینے سے متعلق کوئی حتمی عدالتی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ ماہرین بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں، مویشیوں کے لیے قابل اعتماد چارہ و پانی اور کمزور خاندانوں کے لیے ہدفی امداد کو طویل مدتی تحفظ کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔