کراچی پولیس نے گل پلازہ شاپنگ کمپلیکس میں رواں سال ہونے والی مہلک آتشزدگی کے مقدمے کا چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرادیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر نے 5 ستمبر 2026 کو پیش کیے گئے چالان میں گل پلازہ کی انتظامیہ کو واقعے کی بنیادی ذمہ دار قرار دیا اور ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کو مرکزی ملزم نامزد کیا۔ چالان پولیس کی تفتیشی رائے اور استغاثہ کے مواد پر مشتمل ہے؛ اسے ملزمان کے جرم یا کسی ادارے کی بے گناہی کا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

گل پلازہ میں اس سال لگنے والی آگ سے 70 سے زائد افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ حادثے کے بعد سندھ حکومت نے 4 فروری کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ایک رکنی عدالتی کمیشن بنایا تھا۔ موجودہ پیش رفت فوجداری مقدمے میں پولیس چالان جمع ہونے سے متعلق ہے اور اسے عدالتی کمیشن کی الگ انتظامی تحقیق سے امتیاز کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

چالان کی نقل کے مطابق تنویر پاستا کے علاوہ ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، نعمت اللہ اور نائب صدر عمار اسماعیل ضمانت پر ہیں، جبکہ امین نامی ملزم کو مفرور بتایا گیا ہے۔ ایک 11 سالہ بچے حذیفہ کا نام مرکزی فہرست سے نکال کر اس کا چالان مبینہ طور پر کم عمر ملزم کے الگ مقدمے میں پیش کیا گیا۔ ضمانت ملنا، مفرور قرار دیا جانا یا چالان میں نام شامل ہونا سزا کے برابر نہیں؛ ہر ملزم کے خلاف الزام کا فیصلہ عدالت ثبوت اور دفاع سننے کے بعد کرے گی۔

پولیس نے چالان کے ساتھ 85 گواہوں کی فہرست بھی جمع کرائی۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، یو ایس بی ڈرائیوز، نیٹ ورک و ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز اور دیگر مواد حاصل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ چالان کے مطابق فرانزک جانچ میں زیر معائنہ اشیا میں دھماکا خیز مواد یا آتش گیر مائع کے آثار نہیں ملے، اگرچہ بعض اشیا پر آگ کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات شناخت ہوئے۔ فرانزک نتیجہ آگ کے تمام ممکنہ اسباب یا ہر فرد کی ذمہ داری کا بذاتِ خود مکمل تعین نہیں کرتا؛ اسے باقی شہادت کے ساتھ عدالت میں جانچا جائے گا۔

چالان نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش میں ان اداروں کی غفلت ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس پہلے جاری عدالتی کمیشن کی رپورٹ نے سانحے کو صرف ایک ادارے یا حکومت کی ناکامی قرار دینے کے بجائے خطرات شناخت کرنے، حفاظتی قواعد نافذ کرنے، آگ بجھانے اور ہنگامی ریسکیو کے نظام کی مجموعی ناکامی سے جوڑا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ عمارت کی انتظامیہ نے معلوم حفاظتی خامیاں دور نہیں کیں۔ دونوں دستاویزات کا قانونی کردار مختلف ہے، اور پولیس کی کلین چٹ عدالت کو پابند کرنے والا بریت کا حکم نہیں۔

عدالتی کمیشن کے مطابق 2024 اور 2025 میں سول ڈیفنس معائنوں میں آگ بجھانے کے سامان کی کمی، آتش گیر تجارتی مواد اور اخراج کے راستوں کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی، مگر نقائص دور نہیں کیے گئے اور مؤثر قانونی کارروائی بھی نہ ہوسکی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ منظور شدہ نقشے میں 1,102 دکانیں تھیں جبکہ عمارت میں 1,153 دکانیں کام کر رہی تھیں۔ یہ کمیشن کے نتائج ہیں؛ فوجداری مقدمے میں ان کے ثبوتی وزن اور ہر نامزد فرد سے تعلق کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔

مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 285، 322، 337-H(ii)، 427 اور 436 شامل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ان دفعات کا تعلق بالترتیب آگ یا آتش گیر مادے سے لاپرواہی، قتل بالسبب یا مالی ذمہ داری، انسانی جان و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی غفلت، نقصان پہنچانے اور آگ کے ذریعے املاک کو نقصان سے ہوسکتا ہے۔ کسی دفعہ کا چالان میں شامل ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کے تمام قانونی اجزا عدالت میں پہلے ہی ثابت ہوگئے ہیں۔

عدالت نے سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کردی۔ اگلے مراحل میں عدالت چالان اور دستاویزات کا جائزہ لے گی، ملزمان کے خلاف باضابطہ کارروائی اور ممکنہ فرد جرم کے قانونی تقاضے پورے ہوں گے اور استغاثہ و دفاع کو شواہد پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت چالان کا جمع ہونا، 85 گواہوں کی فہرست، پولیس کی جانب سے عمارت انتظامیہ پر الزام اور فرانزک رپورٹ کا خلاصہ ہے؛ ذمہ داری کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔