جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے خبردار کیا ہے کہ گوادر کو وفاقی انتظام میں دینے یا مقامی آبادی پر بالائی سطح سے کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی سیاسی اور عوامی مزاحمت کی جائے گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا۔ یہ ایک سیاسی رہنما کا بیان ہے؛ وفاقی حکومت کی جانب سے گوادر کے انتظامی درجے میں کسی حتمی تبدیلی کا باضابطہ فیصلہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ نئے صوبوں یا مخصوص علاقوں کو وفاقی کنٹرول میں دینے سے متعلق سرکاری حلقوں اور سوشل میڈیا پر جاری گفتگو عوامی ردعمل جانچنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم قومی معاملات پارلیمان کے بجائے بالواسطہ بحث کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کو مقرر کے سیاسی الزام اور تشریح کے طور پر منسوب کیا گیا ہے، نہ کہ کسی سرکاری منصوبے کی آزادانہ تصدیق کے طور پر۔

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے خطے میں قائم بعض سیکیورٹی چوکیوں پر بھی تنقید کی اور مسافروں، طلبہ اور عام شہریوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت عوامی حقوق کے لیے سڑکوں اور صوبائی اسمبلی دونوں میں پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان الزامات پر متعلقہ سیکیورٹی یا انتظامی اداروں کا جواب ڈان کی دیکھی گئی رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

انہوں نے انتظامی اکائیوں اور نئے اضلاع کی تشکیل کو اصولی طور پر ممکن قرار دیا، بشرطیکہ یہ عمل اتفاقِ رائے اور پارلیمانی منظوری سے ہو۔ اس کے برعکس انہوں نے گوادر کو وفاقی علاقہ بنانے کے تصور کو مسترد کیا۔ اس فرق سے واضح ہے کہ ان کا اعتراض انتظامی اصلاح کے ہر امکان پر نہیں بلکہ مقامی نمائندگی کے بغیر اختیار کی منتقلی پر ہے۔ کسی آئینی یا انتظامی تبدیلی کے لیے باضابطہ قانونی عمل اور متعلقہ اداروں کے فیصلے درکار ہوں گے۔

اردو ہیڈ لائنز نے ڈان کی براہِ راست رپورٹ کے مطابق تمام متنازع دعوے مولانا ہدایت الرحمٰن سے منسوب رکھے ہیں۔ خبر میں گوادر کی حیثیت بدلنے کا کوئی تصدیق شدہ حکومتی حکم یا نوٹیفکیشن موجود نہیں، اس لیے سرخی اور متن کو انتباہ اور سیاسی مؤقف تک محدود رکھا گیا ہے۔ اگر وفاقی یا بلوچستان حکومت باقاعدہ پالیسی وضاحت جاری کرتی ہے تو اسے اسی واقعے کی اہم تازہ کاری سمجھا جائے گا۔