بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ضلع مستونگ کی تحصیل کھڈ کوچہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو دوبارہ نافذ کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکم اتوار کی صبح سات بجے سے مؤثر ہوا اور اس کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا، عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا اور ممکنہ ناخوشگوار واقعے کا بروقت جواب دینا بتایا گیا ہے۔ پابندی کے دوران سڑکوں اور بازاروں میں عوامی نقل و حرکت مکمل طور پر محدود رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پابندی پر عمل درآمد، ریاستی عمل داری برقرار رکھنے اور کسی ممکنہ واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں باہر نکلنے اور پابندی کی خلاف ورزی سے متعلق سخت تنبیہ بھی شامل ہے۔
کرفیو کے خاتمے کے لیے کوئی مقررہ تاریخ نہیں دی گئی اور حکام نے کہا ہے کہ یہ اگلے حکم تک نافذ رہے گا۔ اس لیے مقامی آبادی کے لیے آمدورفت، بازاروں تک رسائی اور روزمرہ سرگرمیوں کے بارے میں تازہ ہدایات ضلعی انتظامیہ کے اعلانات سے لینا ضروری ہوگا۔ خبر میں کسی مخصوص استثنا، طبی نقل و حرکت کے طریقۂ کار یا تعلیمی و تجارتی سرگرمیوں کے الگ شیڈول کی تفصیل نہیں دی گئی؛ ان معاملات میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات حتمی ہوں گی۔
ڈان نے پس منظر میں بتایا کہ 22 جولائی کو بھی کھڈ کوچہ میں اسی نوعیت کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ وہ اقدام کراچی جانے والی ایک بس پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ موجودہ کرفیو کو اسی سابق واقعے کا براہِ راست تسلسل قرار نہیں دیا گیا، بلکہ نئے حکم میں عمومی سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی ضرورت بیان کی گئی ہے۔
اردو ہیڈ لائنز نے حساس نوعیت کی اس خبر میں صرف ڈان کی براہِ راست دیکھی گئی رپورٹ اور اس میں نقل کیے گئے سرکاری حکم کے نکات استعمال کیے ہیں۔ کسی ممکنہ خطرے، کارروائی یا واقعے کی غیر مصدقہ تفصیل شامل نہیں کی گئی۔ کرفیو میں تبدیلی، نرمی یا خاتمے کی اطلاع سرکاری نوٹیفکیشن یا انتظامیہ کی تصدیق کے بعد اسی خبر کی مادی تازہ کاری بنے گی۔




