اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ اگست کے دوران 145 بڑے سرچ آپریشن کیے گئے اور مجموعی طور پر 9,317 افراد کی جانچ کی گئی۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق آئی سی ٹی پولیس نے ان کارروائیوں کو دارالحکومت میں نگرانی اور جرائم کی روک تھام کی مہم کا حصہ قرار دیا۔ یہ اعداد پولیس کے سرکاری بیان سے منسوب ہیں۔
پولیس کے مطابق کارروائیوں میں 3,993 گھروں، 274 ہوٹلوں اور 1,027 دکانوں کی جانچ کی گئی۔ سڑکوں اور مختلف مقامات پر 4,908 موٹرسائیکلوں اور 1,720 گاڑیوں کو بھی چیک کیا گیا۔ یہ الگ الگ جانچ کی اقسام ہیں؛ انہیں جمع کر کے منفرد افراد یا منفرد مقامات کی تعداد سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ایک ہی کارروائی میں متعدد چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 251 افراد، 453 موٹرسائیکلیں اور پانچ گاڑیاں مزید تصدیق کے لیے متعلقہ تھانوں یا پولیس تحویل میں لائی گئیں۔ تصدیق کے لیے تحویل میں لیا جانا جرم ثابت ہونے یا سزا کے برابر نہیں۔ کسی بھی شخص یا سواری کی قانونی حیثیت شناخت، دستاویزات، ملکیت اور اگر کوئی مقدمہ ہو تو اس کی عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوتی ہے۔
پولیس نے چار افراد کی مبینہ منشیات یا اسلحے سے متعلق گرفتاریوں اور کچھ برآمدگیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان دعوؤں کو پولیس کے ابتدائی مؤقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی عدالت کا حتمی فیصلہ شامل نہیں۔ گرفتار شخص قانون کے تحت دفاع اور منصفانہ سماعت کا حق رکھتا ہے، جبکہ برآمد اشیا کی نوعیت اور مقدمے سے تعلق تفتیش اور شہادت کے عمل میں جانچا جاتا ہے۔
سرچ آپریشن کی کارکردگی صرف چیک کیے گئے افراد یا گاڑیوں کی بڑی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اس کے لیے قانونی طریقہ کار کی پابندی، شہری شکایات، مقدمات کی نوعیت، غیر قانونی اشیا کی تصدیق اور بعد کے عدالتی نتائج بھی اہم ہوتے ہیں۔ شفاف رپورٹنگ سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ جانچ کا دائرہ کہاں تھا اور کتنے معاملات صرف دستاویزات کی تصدیق کے بعد ختم ہوئے۔
یہ رپورٹ دی نیشن میں شائع ہونے والے آئی سی ٹی پولیس کے بیان پر مبنی ہے۔ تمام اعداد اسی رپورٹ سے لیے گئے ہیں، جبکہ پولیس جانچ، تصدیقی تحویل، گرفتاری، الزام اور عدالتی نتیجے کو ایک دوسرے سے واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




