راولپنڈی: حالیہ بارشوں کے بعد شہر کی متعدد سڑکوں پر پانی جمع ہونے، گڑھے بننے اور ادھورے تعمیراتی کام کے باعث شہریوں، موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق کئی راستے پانی اور کیچڑ میں گھر گئے، جبکہ سیوریج اور پانی کی لائنیں بچھانے کے بعد بروقت مرمت نہ ہونے سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔

گنجمنڈی روڈ، جو راجا بازار کو چھاؤنی کے علاقوں اور اسلام آباد سے ملاتی ہے، سب سے زیادہ متاثر راستوں میں شامل بتائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق نالہ لئی کے پل سے راجا بازار تک تقریباً دو کلومیٹر حصے میں متعدد مقامات پر پانی کھڑا ہے۔ ٹوٹی سطح اور گہرے گڑھوں نے دو پہیہ گاڑیوں کے لیے حادثے کا خطرہ بڑھایا اور مختلف مقامات پر ٹریفک جام معمول بن گیا۔

چکلالہ اسکیم تھری سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ تک چوہدری بوستان خان روڈ کی حالت بھی خراب بتائی گئی۔ مقامی رہائشیوں نے کہا کہ خراب راستوں سے سفر کا وقت بڑھ رہا ہے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ شکایات شہریوں کے بیانات ہیں؛ خبر میں کسی حادثے کی مجموعی سرکاری تعداد یا نقصانات کا مالی تخمینہ موجود نہیں۔

واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر عزیز اللہ خان نے بتایا کہ گنجمنڈی، جامع مسجد اور سیدپور روڈ پر پیر سے مرمت شروع کی جائے گی۔ ان کے مطابق سیوریج اور پانی کی لائنوں کا کام گزشتہ ماہ مکمل ہوا تھا مگر اس کے فوراً بعد بارشیں شروع ہو گئیں، جس سے سڑک کی بحالی مؤخر ہوئی۔ دوسری جانب آر ڈی اے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ چوہدری بوستان خان روڈ کی تعمیرِ نو موجودہ مالی سال میں طے تھی لیکن پنجاب حکومت سے گرانٹ ابھی نہیں ملی۔

موجودہ صورتحال میں شہریوں کے لیے فوری مسئلہ محفوظ آمدورفت ہے، جبکہ اداروں کے لیے کھدائی کے بعد سڑک کی بروقت بحالی اور بارشی نکاسی کا مربوط انتظام اہم ہے۔ واسا کا اعلان عملی کام شروع ہونے کی یقین دہانی ہے، تکمیل کی تصدیق نہیں؛ اس لیے آئندہ پیش رفت مرمت کے حقیقی آغاز اور مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک