کراچی: سندھ میں زخمی افراد کو بلا تاخیر طبی امداد دینے کے قانون سے متعلق آگاہی مہم کے دوران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت میں مریض کی جان بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور راہِ عمل ٹرسٹ کے اشتراک سے ہونے والی تقریب میں نجی اسپتالوں، پولیس اور شہریوں کی ذمہ داریوں پر بات کی گئی۔

وزیر صحت کے مطابق گولی لگنے، جلنے یا کسی دوسرے حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کو فوری علاج فراہم کیا جانا چاہیے اور ابتدائی طبی امداد کو ادائیگی یا پولیس کارروائی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مریض کسی مہنگے نجی اسپتال پہنچتا ہے تو علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ رپورٹ میں اس انتظام کے مالی طریقۂ کار، ادائیگی کی حد یا درخواست کے الگ مراحل کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بیان کو اسی اعلان کردہ پالیسی کے دائرے میں سمجھا جائے گا۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر زخمی یا اس کے اہل خانہ اخراجات برداشت کرنے کی حالت میں نہ ہوں تو نجی ادارہ پہلے ضروری طبی امداد دے اور مریض کی حالت مستحکم ہونے کے بعد اسے سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس ترتیب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مالی حیثیت کی جانچ کے دوران جان بچانے والا وقت ضائع نہ ہو۔ پولیس اور عام شہریوں میں قانون سے آگاہی بڑھانے کو بھی مہم کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

تقریب میں سول اسپتال کراچی سے متعلق گردش کرنے والی باتوں کا ذکر بھی آیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ سروسز اسپتال بند نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اسپتال کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں منتقلی کا مکمل شیڈول یا ہر شعبے کی نئی جگہ نہیں بتائی گئی، اس لیے اس معاملے میں صرف سرکاری وضاحت کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

اس اعلان کی عملی اہمیت اسپتالوں تک واضح ہدایات، سرکاری ادائیگی کے قابلِ عمل نظام اور مریض کی محفوظ منتقلی سے جڑی ہوگی۔ موجودہ خبر میں کسی نئے بجٹ، مخصوص فنڈ یا علاج کی مجموعی حد کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ شہریوں کے لیے بنیادی پیغام یہی ہے کہ ہنگامی حالت میں زخمی کو فوراً قریبی علاج گاہ پہنچایا جائے اور ابتدائی جان بچانے والی امداد میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک