پاکستان کی علاقائی سفارت کاری کے ایک نئے مرحلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران روانہ ہوگئے ہیں۔ ڈان نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ دورہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ اس مرحلے پر خبر روانگی اور مشن کے عمومی مقصد کی تصدیق کرتی ہے؛ ملاقاتوں کے مکمل شیڈول یا کسی حتمی سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پرامن، دیرپا اور جامع حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر توجہ دیں گے۔ اس بیان میں پاکستان کے کردار کو سہولت کاری اور امن کی کوششوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ اسے کسی فریق کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنے، مذاکرات کے نتیجے یا نئے معاہدے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ایسی کوئی تفصیل جاری نہیں ہوئی۔
ایکسپریس اردو کی الگ رپورٹ میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ترجمان نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو موجودہ دور کے بہترین مراحل میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی آرمی چیف کا دورہ دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ امور پر مرکوز ہوگا۔ یہ ایرانی وزارت خارجہ کا بیان ہے؛ دونوں حکومتوں کی جانب سے کسی مشترکہ اعلامیے یا فیصلے کی اطلاع ابھی سامنے نہیں آئی۔
ایرانی ترجمان نے جاری جنگ کے بارے میں اپنے ملک کا موقف بھی دہرایا کہ تہران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع پر قائم ہے۔ انہوں نے بلغاریہ کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی میں تعاون سے گریز کا پیغام دیا۔ ان دعووں اور انتباہات کو ایران کا سرکاری موقف سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ کسی نئی فوجی کارروائی یا اس کے نتیجے کی آزادانہ تصدیق۔
پاکستانی وفد کی روانگی ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی جہاز رانی اور ایران پر ممکنہ نئی پابندیوں سے متعلق متعدد خبریں سامنے آرہی ہیں۔ تاہم موجودہ رپورٹ کا مرکزی واقعہ پاکستان کی امن کوششوں کے تحت اعلیٰ سطح وفد کی ایران روانگی ہے۔ دورے کے دوران کن ایرانی حکام سے ملاقات ہوگی اور بات چیت کے بعد کیا مشترکہ نتیجہ سامنے آئے گا، اس کی تصدیق باضابطہ بیانات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
اردو ہیڈ لائنز اس خبر کو آئی ایس پی آر کے بیان کی ڈان میں اشاعت اور ایرانی وزارت خارجہ کے موقف کی ایکسپریس اردو میں رپورٹنگ تک محدود رکھ رہا ہے۔ آئندہ قابلِ تصدیق پیش رفت میں ملاقاتوں کی تفصیل، جاری شدہ مشترکہ بیان یا امن عمل کے کسی واضح مرحلے کا اعلان شامل ہوسکتا ہے۔ فی الحال اتنا طے ہے کہ پاکستان نے علاقائی امن کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں فوجی اور حکومتی سطح کا وفد تہران بھیجا ہے۔




