اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لاٹ فور میں 1.282 ارب روپے کے مبینہ غبن اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور قومی احتساب بیورو کو معاملے کا جائزہ لینے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کی رقم واپس لینے کے لیے کارروائی کی ہدایت کی۔

رپورٹ میں کمیٹی کے خط کے حوالے سے کہا گیا کہ کنٹریکٹر کی قیمت میں ٹیکسوں کی مد میں ایسی رقوم شامل کیے جانے کا انکشاف ہوا جن پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ خط میں اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر سے متعلق خریداری اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت والے منصوبے میں قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ نکات کمیٹی کے خط میں بیان کردہ الزامات اور ابتدائی مشاہدات ہیں، کسی عدالت یا احتساب ادارے کا حتمی فیصلہ نہیں۔

قائمہ کمیٹی نے ایف آئی اے اور نیب کو تحقیقات کے ساتھ مبینہ طور پر ضائع ہونے والی رقم کی فوری ریکوری کی ہدایت دی۔ کمیٹی نے پاور ڈویژن کے ان افسران کے خلاف کارروائی کا بھی کہا جن کا کردار تحقیقات میں سامنے آئے۔ کسی فرد کو ذمہ دار قرار دینے، گرفتاری یا باقاعدہ ریفرنس دائر ہونے کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی، اس لیے ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقاتی اداروں کی کارروائی سے مشروط ہے۔

کمیٹی نے ملکی اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ چونکہ منصوبے میں بیرونی مالی معاونت کا حوالہ موجود ہے، اس لیے خریداری کے قواعد، ٹینڈر کی جانچ، قیمت کے تعین اور ٹیکسوں کے اندراج سے متعلق اصل دستاویزات تحقیقات میں اہم ہوں گی۔ رپورٹ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے الگ ردعمل یا آزاد آڈٹ کا نتیجہ شامل نہیں۔

مبینہ 1.282 ارب روپے کی رقم کو فی الحال تحقیق طلب دعویٰ سمجھنا ضروری ہے۔ ایف آئی اے یا نیب کی تفتیش، ریکارڈ کی جانچ اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کوئی مالی بدعنوانی ثابت ہوتی ہے، انتظامی بے ضابطگی سامنے آتی ہے یا اعتراضات کا کوئی اور قانونی جواب موجود ہے۔ آئندہ مقدمہ، ریکوری، ریفرنس یا عدالتی حکم کی تصدیق ہونے پر اسے الگ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک