لاہور: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے لاہور، کراچی اور پشاور میں نویں روز بھی جاری رہے، جبکہ پارٹی نے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق آئندہ لائحہ عمل پر مشاورتی اجلاس اسی روز ہونا تھا اور فیصلوں کے اعلان کی توقع رات کو ظاہر کی گئی۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور کے چیئرنگ کراس، مال روڈ پر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس میں کہا کہ شرکا احتجاج جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے 11 اور 12 ربیع الاول کو دھرنوں کے مقامات پر سیرت کانفرنسوں کے انعقاد اور 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق ممکنہ ہڑتال ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتی ہے، تاہم رپورٹ کے وقت تاریخ حتمی نہیں تھی۔

حافظ نعیم نے کہا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو سڑکوں پر بیٹھنے سمیت احتجاج کے دیگر طریقوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مال روڈ پر مارچ، دھرنا آٹھ کلب تک لے جانے اور مناسب وقت پر لانگ مارچ کا اعلان کرنے کو بھی ممکنہ آپشنز میں شمار کیا۔ یہ تمام باتیں جماعت اسلامی کی زیر غور حکمت عملی اور سیاسی بیان ہیں؛ انہیں نافذ شدہ پروگرام یا سرکاری فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے چینی اور گندم کی درآمد و برآمد، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، حکومتی اخراجات اور سیاسی مراعات پر بھی تنقید کی۔ سرکاری جہاز، گاڑیوں، گندم اور چینی سے متعلق ان کے بیان میں کیے گئے مالی و انتظامی دعوے جماعت اسلامی کے مؤقف سے منسوب ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں ان تمام دعوؤں کے ساتھ متعلقہ سرکاری محکموں کا تفصیلی جواب شامل نہیں، اس لیے انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

حافظ نعیم نے پرامن احتجاج کے حق، قومی اتفاق رائے اور مختلف سیاسی و سلامتی کے مسائل پر مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ احتجاج کی اگلی شکل، ممکنہ شٹر ڈاؤن کی تاریخ اور لانگ مارچ سے متعلق حتمی فیصلہ مشاورتی عمل کے بعد ہی واضح ہوگا۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں پر کسی عملی اثر کی تصدیق باقاعدہ اعلان اور زمینی صورت حال سامنے آنے کے بعد کی جا سکے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک