اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملاقات میں سیاسی رواداری اور باہمی مشاورت کا عمل برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس اتفاق کی اطلاع دی، جبکہ سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے بیان میں کہا گیا کہ سندھ سے متعلق معاملات اور صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے بھی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل رہے۔ تاہم دستیاب بیان میں کسی مخصوص منصوبے، مالی پیکیج یا انتظامی فیصلے کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ملاقات کو کسی حتمی پالیسی اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک ہوئے۔ وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ گفتگو میں سیاسی رابطوں کے ساتھ حکومتی اور ترقیاتی امور بھی زیر بحث آئے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب مرکز میں اتحادی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات سمیت مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ڈان کے مطابق پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل سے متعلق تحفظات ظاہر کیے تھے اور بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ان تحفظات کے حل تک حکمران جماعت کے ساتھ حقیقی اتحاد ممکن نہیں۔ یہ پیپلز پارٹی کا سیاسی مؤقف ہے، اسے کسی آزاد یا عدالتی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
رپورٹ میں قومی اسمبلی کی حالیہ کارروائی کا حوالہ بھی دیا گیا، جہاں پیپلز پارٹی نے اتحادی مشاورت کے طریقہ کار پر اعتراضات کیے۔ تازہ ملاقات میں رواداری اور مشاورت جاری رکھنے کا اتفاق سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن فریقین کے تمام اختلافات کے حل یا کسی تحریری معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ آئندہ کسی مشترکہ اعلامیے یا عملی فیصلے کو الگ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




