وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے بہترین مفاد اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہو تو اس امکان پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں یہ موقف اختیار کیا۔ یہ وفاقی وزیر کی سیاسی رائے اور بحث کی دعوت ہے؛ کسی نئے صوبے کے قیام، حد بندی یا آئینی ترمیم کا باضابطہ حکومتی فیصلہ نہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل جیسے اہم فیصلے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے اور اسے کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث ہونی چاہیے۔ موجودہ بیان میں کسی قرارداد، بل، پارلیمانی کمیٹی یا سرکاری کمیشن کے قیام کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے قانونی عمل کے آغاز کے بجائے پالیسی گفتگو کا حصہ سمجھنا درست ہوگا۔
وفاقی وزیر نے نئے صوبوں کے سوال پر مثبت اور صحت مند بحث کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس میں شریک ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جماعتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھیں۔ اس موقف میں انتظامی سہولت کے ممکنہ فائدے کا ذکر ہے، مگر آبادی، وسائل، محصولات، صوبائی دارالحکومت یا سرحدوں سے متعلق کوئی مخصوص خاکہ پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت میں صوبائی تنظیمِ نو کی تاریخی مثال دیتے ہوئے 1950 میں قائم کمیشن اور بھارتی پنجاب سے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب کی تشکیل کا حوالہ دیا۔ یہ مثال ان کے استدلال کا حصہ ہے؛ پاکستان میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا آئینی اور سیاسی راستہ ملک کے اپنے قانونی ڈھانچے، پارلیمانی طریقہ کار اور متعلقہ اکائیوں کی رائے کے مطابق طے ہوگا۔ رپورٹ میں کسی تیار مسودے یا مجوزہ نقشے کی موجودگی نہیں بتائی گئی۔
طارق فضل چوہدری نے یہ امکان بھی تسلیم کیا کہ اگر نئے صوبوں سے مزید تقسیم یا انتشار کا خدشہ ہو تو مختلف آرا سامنے آسکتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کھلے دل، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانے کی بات کی۔ ان کا بیان نئے صوبوں کے حق میں غیر مشروط منظوری نہیں بلکہ قومی مفاد اور انتظامی ضرورت کی شرط کے ساتھ بحث کی حمایت ہے۔
آگے کی قابلِ تصدیق پیش رفت تب ہوگی جب حکومت یا کسی پارلیمانی جماعت کی جانب سے واضح تجویز، آئینی ترمیم، قرارداد، کمیٹی یا باضابطہ مشاورتی عمل سامنے آئے۔ فی الحال نہ نئے صوبوں کی تعداد بتائی گئی ہے، نہ نام، نہ حدود اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن۔ اردو ہیڈ لائنز نے اس خبر کو ایکسپریس اردو میں رپورٹ ہونے والے وفاقی وزیر کے بیان تک محدود رکھا ہے اور غیر اعلان شدہ منصوبوں یا سیاسی حمایت کی سطح کے بارے میں کوئی قیاس شامل نہیں کیا۔




