لاہور: ٹارگٹ کلنگ اور ایک مبینہ ٹارگٹ کلر سے روابط کے الزام کی تحقیقات میں زیر حراست دو پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق تفتیشی حکام نے دونوں اہلکاروں سے پوچھ گچھ کے دوران بعض اہم معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ان کے موبائل فونز کا فرانزک معائنہ جاری ہے۔
پولیس کے مطابق زیر تفتیش اہلکاروں پر الزام ہے کہ وہ ریحان نامی شخص کی پشت پناہی کرتے رہے۔ رپورٹ میں ریحان کو اسٹریٹ کرائم میں ملوث مرکزی ٹارگٹ کلر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ میٹرو بس میں موبائل چوری اور چھیننے کی وارداتیں کرتا تھا۔ یہ تمام تفصیلات پولیس کے بیان اور جاری تفتیش سے منسوب ہیں؛ کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے یا حتمی سزا کی اطلاع رپورٹ میں موجود نہیں۔
تفتیشی مؤقف کے مطابق دونوں اہلکار اپنے متعلقہ یونٹس میں موجود اثر و رسوخ اور رابطوں کو ریحان کی مدد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پولیس نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اہلکار ضمانت پر رہائی کے معاملات میں مدد کرتے اور مبینہ طور پر ریکارڈ ختم کرانے کی کوشش میں سہولت فراہم کرتے تھے۔ اس الزام کی نوعیت سنگین ہے، مگر فرانزک عمل اور تفتیش مکمل ہونے سے پہلے اسے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیر حراست ایک اہلکار اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہے اور کریمنل ریکارڈ برانچ میں تعینات تھا، جبکہ دوسرا کانسٹیبل لوئر مال انویسٹی گیشن ونگ میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ دونوں کی تعیناتیوں کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ تحقیقات کا مرکز مبینہ طور پر سرکاری رسائی اور داخلی روابط کے غلط استعمال پر ہے۔
پولیس نے موبائل فونز کے فرانزک معائنے کو جاری کارروائی کا حصہ بتایا ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ اہلکاروں کے خلاف باضابطہ مقدمہ کس دفعہ کے تحت درج کیا گیا، انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا یا محکمانہ کارروائی الگ سے شروع ہوئی۔ ان نکات پر دستیاب رپورٹ خاموش ہے، اس لیے کسی اضافی قانونی نتیجے کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی دستاویزی پیش رفت، چالان یا عدالتی حکم کو الگ خبر کے طور پر رپورٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




