لاہور: پاکستان ریلوے نے کراچی سے روہڑی کے درمیان ایم ایل ون ٹریک کی اپ گریڈیشن کے دوران مسافر اور مال گاڑیوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لیے عارضی آپریشن پلان کی تجاویز تیار کی ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ انتظامات ٹریک پر تعمیراتی کام شروع ہونے کی صورت میں محدود ریل آپریشن برقرار رکھنے کے لیے زیر غور ہیں۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اپ گریڈیشن کا کام کراچی اور روہڑی کے درمیان پانچ سے چھ مقامات پر ایک ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ہر ورک سیکشن کی مجوزہ لمبائی تقریباً 60 کلومیٹر رکھی گئی ہے۔ زیر تعمیر حصوں میں ٹرینوں کی رفتار 45 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کرنے اور روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے دونوں ٹریک بند رکھنے کی تجویز بھی منصوبے کا حصہ بتائی گئی۔
عارضی پلان کے مطابق اپ گریڈیشن کے دوران روزانہ صرف چار مسافر ٹرینوں کو چلانے کی تجویز ہے۔ ان میں پشاور سے ایک، راولپنڈی سے دو اور لاہور سے ایک ٹرین شامل بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ آٹھ مال گاڑیاں چلانے کا امکان بھی بیان کیا گیا۔ رپورٹ میں مخصوص ٹرینوں کے نام، نئی ٹائم ٹیبل یا آپریشن کے آغاز کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگل لائن آپریشن اور تعمیراتی رکاوٹوں کے باعث کراچی اور روہڑی کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً پانچ سے دس گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔ یہ اضافہ موجودہ تجاویز کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے؛ عملی دورانیہ تعمیراتی مرحلے، ٹریفک نظم اور حتمی شیڈول کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ مسافروں کے لیے کسی باقاعدہ نئی ہدایت یا بکنگ نظام میں تبدیلی کا اعلان دستیاب رپورٹ میں موجود نہیں۔
ایم ایل ون پاکستان کے مرکزی ریلوے نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے اور کراچی روہڑی سیکشن پر کام کے دوران مسافر اور مال بردار ٹریفک میں توازن ایک بڑا عملی مسئلہ ہوگا۔ موجودہ خبر منصوبہ بندی کے مرحلے کی ہے، اسے منظور شدہ حتمی ٹائم ٹیبل یا فوراً نافذ ہونے والا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان ریلوے کی جانب سے باضابطہ شیڈول، متاثرہ ٹرینوں کی فہرست یا آغاز کی تاریخ جاری ہونے پر مسافروں کو اسی سرکاری معلومات کی پیروی کرنا ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




