کراچی میں ریڈ لائن منصوبے کے تعمیراتی علاقے میں پیش آنے والے ایک مہلک حادثے سے متعلق 17 کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے ہرجانے کے دعوے پر سینیئر سول جج ملیر نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی عدالتی رپورٹ کے مطابق دعویٰ جاں بحق شہری کے بیٹے نے دائر کیا اور عدالت نے فریقین کو 21 ستمبر کے لیے طلبی کے نوٹس جاری کیے۔ نوٹس جاری ہونا دعوے کے مندرجات کی حتمی توثیق یا ہرجانے کی منظوری نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت، ملیر کنٹونمنٹ بورڈ، ریڈ لائن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، متعلقہ کانٹریکٹر اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ رواں سال جنوری میں شاہد نامی شہری اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ رات کے وقت گھر واپس آ رہے تھے جب جناح ایونیو کے قریب سڑک کے درمیان موجود بیریئر سے ان کی سواری ٹکرا گئی۔ وکیل کے مطابق شہری جاں بحق جبکہ اہلیہ اور بچہ زخمی ہوئے۔

درخواست گزار کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ تعمیراتی بیریئرز پر ریفلیکٹر اور وارننگ سائن موجود نہیں تھے اور اس جگہ اسٹریٹ لائٹ نہ ہونے کے باعث رات میں رکاوٹ نظر نہیں آئی۔ وکیل نے ان حالات کو منصوبے کے دوران ناقص حفاظتی انتظامات اور غفلت سے جوڑا۔ یہ نکات مدعی کے مقدمے اور وکیل کے دلائل ہیں؛ رپورٹ میں فریق بنائے گئے اداروں یا کانٹریکٹر کا جواب شامل نہیں، اور عدالت نے ابھی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا۔

ہرجانے کی رقم کے لیے وکیل نے یہ مؤقف پیش کیا کہ متوفی خاندان کا واحد کفیل تھا، اس لیے مالی نقصان اور حادثے کے اثرات کے بدلے 17 کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔ سول دعوے میں عدالت عام طور پر فریقین کے جوابات، دستاویزی ثبوت، حادثے کا ریکارڈ، ذمہ داری اور نقصان کے حساب کو دیکھتی ہے۔ موجودہ مرحلے پر صرف دعویٰ دائر ہونے اور نوٹس جاری ہونے کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

شہری تعمیراتی منصوبوں کے دوران محفوظ راستہ، واضح رکاوٹیں، مناسب روشنی اور پیشگی انتباہ بنیادی حفاظتی عناصر ہیں، مگر کسی خاص حادثے میں قانونی غفلت ثابت کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ ریڈ لائن منصوبے یا کسی سرکاری ادارے کو اس مرحلے پر حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا رپورٹ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ فریقین کا جواب اور بعد کی عدالتی کارروائی ذمہ داری کے سوال کو واضح کرے گی۔

اردو ہیڈ لائنز اس حساس خبر کو غیر گرافک انداز میں، دعوے اور نوٹس کے درست قانونی مرحلے کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ آئندہ سماعت میں جواب، ثبوت یا عدالتی حکم سامنے آنے پر اسی واقعے کو نیا مضمون بنانے کے بجائے مادی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک